بلدیاتی انتخابات کے نتائج پولنگ کے فوراً بعد جاری کیے جائیں، تاخیر اور نجی عملہ برداشت نہیں کریں گے: نصر اللہ خان زیرے

کوئٹہ ( ڈیلی قدرت )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز ندا سنگر اور رحمت اللہ صابر نے سمنگلی، کلی مریانی آباد اور غبرگ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان قانونا اس بات کا پابند ہے کہ 28 دسمبر کو پولنگ کے اختتام کے فورا بعد تمام پولنگ اسٹیشنز کے انتخابی نتائج کا اعلان کیا جائے۔ انتخابی قوانین اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ نتائج کو بلاوجہ مخر کیا جائے یا پولنگ کے دو دن بعد جاری کیا جائے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر نجی افراد (پرائیوٹ اشخاص) کی بطور پولنگ اسٹاف تعیناتی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اگر الیکشن کمیشن، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) اور ریٹرننگ آفیسرز نے نجی افراد کی پولنگ اسٹیشنز پر تعیناتی منسوخ نہ کی اور پولنگ کے اختتام کے فورا بعد نتائج کے اعلان کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی الیکشن کمیشن، ڈی آر او اور آر اوز کے دفاتر کے سامنے احتجاج کرنے کا آئینی و جمہوری حق محفوظ رکھتی ہے۔ ان اجتماعات سے پارٹی کے ضلع معاون سیکریٹری ودود خان بازئی، عبداللہ جان اچکزئی، اجمل خان کاکڑ اور حاجی برات خان مریانی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن خود اپنے بنائے گئے انتخابی قوانین کو پامال کر رہا ہے اور یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ انتخابی نتائج پولنگ کے دن کے بجائے دو دن بعد جاری کیے جائیں گے۔ مقررین نے کہا کہ اس اقدام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری امیدواروں کو ناجائز طور پر کامیاب بنانے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین واضح طور پر اس بات کے متقاضی ہیں کہ پولنگ کے اختتام کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی مکمل کرے، فارم 45 جاری کرے اور نتائج کو فوری طور پر ریٹرننگ آفیسر کو ارسال کرے۔ اس کے برعکس نتائج کو دو دن تک روکنا انتخابی دھاندلی کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے، جسے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گی۔ مقررین نے مزید کہا کہ ڈی آر او اور آر اوز کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز پر نجی افراد کی تعیناتی بھی انتہائی تشویشناک ہے اور اس سے واضح طور پر الیکشن کمیشن کی بدنیتی عیاں ہوتی ہے۔ یہ تمام اقدامات سرکاری امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے منظم دھاندلی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن، ڈی آر او اور آر اوز نے فوری طور پر اپنے غیر قانونی فیصلے واپس نہ لیے تو پارٹی کو مجبورا احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنوں اور عوام کو ہر قسم کے جمہوری احتجاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا اصل مقابلہ کرپشن اور کمیشن مافیا سے ہے جو صوبائی اور قومی حکومتوں کی طرح بلدیاتی اداروں پر بھی قابض ہونا چاہتے ہیں۔ اگر کرپشن اور کمیشن خور عناصر کو بلدیاتی اداروں پر مسلط کیا گیا تو کوئٹہ شہر، جو پہلے ہی شدید مسائل کا شکار ہے، مزید تباہی کی طرف چلا جائے گا اور شہریوں کے بنیادی حقوق بھی بری طرح پامال ہوں گے۔ ایسی صورت میں کوئٹہ ایک مرتبہ پھر قرونِ وسطی کے حالات کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ آخر میں مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے تمام نامزد امیدواروں کے انتخابی نشان انگورکے خوشہ پر مہر لگا کر عوام دوستی، جمہوریت اور شفاف نظام کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں۔
