ملک میں نہ آئین رہا نہ پارلیمان، سب معطل ہو جائے تو ریاست مقبرہ بن جاتی ہے، طاقتور حلقے مجاور بننے سے گریز کریں: مولانا شیرانی
پاکستان میں حاکمیت اسٹیبلشمنٹ کی ہے، ہم اور وہ ایک ہی گھر کے فرد ہیں، الجھنے سے غلامی کی زنجیریں مزید سخت ہونگی:مولانا شیرانی

کراچی/کوئٹہ (ڈیلی قدرت) رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں نہ آئین باقی رہا ہے، نہ پارلیمان کی حیثیت، نہ عدلیہ کا وقار اور نہ ہی سیاستدانوں کی عزت محفوظ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں جے یو آئی پاکستان سندھ کے زیر اہتمام جامع مسجد عثمان بن عفان میں منعقدہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا شیرانی نے کہا کہ ہمیں عوام کو اس غلط فہمی میں نہیں ڈالنا چاہیے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، بلکہ اقوام متحدہ کے معاہدے کی رو سے یہ ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو امانتی خطوں کا نظم سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس ملک پر اصل حاکمیت اسٹیبلشمنٹ کی ہے اور “اسٹیبلشمنٹ برائے پاکستان نہیں بلکہ پاکستان برائے اسٹیبلشمنٹ ہے”۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی گھر کے افراد ہیں، اگر ہم آپس میں الجھیں گے تو ہم آزاد نہیں ہوں گے بلکہ مغرب کی غلامی کی زنجیریں ہمارے اوپر مزید کس جائیں گی، اس لیے جذباتی فیصلوں کے بجائے حقائق کو سمجھنا ہوگا۔
مولانا شیرانی نے خبردار کیا کہ جس ملک میں سیاست، آئین اور عدالت سمیت سب کچھ معطل کر دیا جائے وہ ملک نہیں رہتا بلکہ “مقبرہ” بن جاتا ہے۔ انہوں نے ملک کے طاقتور حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقبرے کا مجاور بننے کے بجائے زندہ انسانوں کی قیادت سنبھالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زندہ انسان اصولوں پر جان قربان کرتے ہیں جبکہ خوف اور لالچ شیطانی حربے ہیں جن سے اجتناب برتتے ہوئے دلیل اور منطق کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اجتماع سے مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاع الملک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
