بلوچستان کی اصل نمائندہ جماعت جے یو آئی ہے، سیاسی انجینئرنگ نے عوام کو مشکلات میں دھکیلا: مولانا عبدالواسع
مدارس کے طلبہ باشعور اور ریاست کے وفادار ہیں، مغرب زدہ تہذیب پاکستان کی اساس پر کاری ضرب ہوگی: دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کی اصل اور واحد عوامی اکثریتی جماعت جمعیت علماء اسلام ہے، مگر بدقسمتی سے جے یو آئی کو منظم سیاسی انجینئرنگ کا نشانہ بنا کر نہ صرف جمہوری اقدار کو مجروح کیا گیا بلکہ عوام کو دانستہ طور پر مشکلات اور محرومیوں میں دھکیلا گیا۔ اس کے باوجود جمعیت علماء اسلام نے کبھی عوامی خدمت کے مشن سے دستبرداری اختیار نہیں کی، بلکہ اسلاف سے ورثے میں ملنے والی عوام دوستی، قربانی اور خدمت کے تسلسل کو پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ نورالقرآن قلعہ سیف اللہ اور جامعہ مفتاح العلوم لورالائی میں منعقدہ سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ سے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف دینی و اخلاقی تربیت کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترتے ہیں بلکہ انہیں ملکی قوانین سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے اور قانون کی عملی پاسداری کی باقاعدہ تربیت بھی دی جاتی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ سیاسی میدان میں ہم فخر کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ جمعیت علمائ اسلام کے کارکن دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مہذب، تربیت یافتہ، باکردار اور ریاست و قوم کے ساتھ مخلص و وفادار ہیں۔ ملک کے کروڑوں عوام نے مختلف سیاسی تحریکوں میں جے یو آئی کے کارکنان کی فکری پختگی، نظم و ضبط اور اخلاقی برتری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، جو آج ایک نمایاں مثال بن چکی ہے۔فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سرزمین، جسے آج ہم عالمِ اسلام کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے اسلاف نے اس مقصد کے لیے حاصل کی تھی کہ یہاں اسلامی تہذیب جلوہ گر ہو، اسلامی نظامِ حیات عملاً نافذ ہو اور وہ اصول و قوانین رائج ہوں جن پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ مسلمان قوم کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی تہذیبی و فکری میراث کو صحیح طریقے سے آئندہ نسلوں تک منتقل کرے۔ مسلمان افراد فنا ہو سکتے ہیں، مگر مسلمان قوم صدیوں تک زندہ رہ سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اپنی تہذیب، تمدن اور اقدار کو نسل در نسل منتقل کرتی رہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہماری نئی نسلیں اسلامی تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب میں رنگی گئیں تو یہ پاکستان کی اساس پر کاری ضرب ہوگی۔ اس صورت میں نسلیں تو باقی رہیں گی مگر اسلامی تشخص مٹ جائے گا، جو اس مقصد کے سراسر منافی ہے جس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔ اس لیے طلبہ کا مسئلہ محض تعلیم تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے قومی وجود، فکری شناخت اور تہذیبی بقا کا مسئلہ ہے۔مولانا عبدالواسع نے زور دیا کہ سب سے زیادہ توجہ اس امر پر دینے کی ضرورت ہے کہ جن نوجوانوں میں اسلامی شعور موجود ہے وہ اپنی درسگاہوں میں الحاد، دہریت اور شکوک و شبہات پیدا کرنے والی ہر تحریک کا فکری و نظریاتی مقابلہ کریں۔ کسی ایسے فلسفے یا فکر کو پنپنے نہ دیا جائے جو اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف کی دعوت دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو شخص بنیادی اسلامی عقائد کے بارے میں شکوک پیدا کرتا ہے وہ محض کفر کا ارتکاب نہیں کرتا بلکہ درحقیقت ملتِ اسلامی سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس شعور کو دلوں میں راسخ کرنا ناگزیر ہے اور آئندہ کسی سطح پر بھی اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک غیر اسلامی اور فاسقانہ تہذیب کسی مسلمان قوم میں رواج پا جائے تو اس کے نقصانات غیر معمولی ہوتے ہیں، کیونکہ اس سے ایمان کمزور، اطاعت کی روح ختم اور بغاوت کی ذہنیت جنم لیتی ہے۔ جب انسان خدا اور رسول? کی اطاعت سے بغاوت پر اتر آئے تو پھر وہ کسی قانون، کسی نظم اور کسی اخلاقی قدر کا پابند نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں قانون شکنی ایک عادت بن جاتی ہے اور فرد کسی مہذب، بالخصوص اسلامی معاشرے کا ذمہ دار رکن بننے کے قابل نہیں رہتا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وہ قوانین، جو ہمارے اسلاف نے اسلامی تشخص کی بنیاد پر تشکیل دیے، ان پر عملدرآمد اور ان میں اسلامی دفعات کے اضافے کے لیے جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مدارس دینیہ میں طلبہ کو انہی قوانین کی پاسداری اور عملی نفاذ کی منظم تربیت دی جاتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ آج ملک کے سب سے باشعور، ذمہ دار اور نظریاتی طور پر مضبوط طبقے کی حیثیت رکھتے ہیں، اور سیاسی میدان میں ان کی اقدار و کردار نے اس سرزمین پر ایک روشن مثال قائم کی ہے۔
