میری پہلی پہچان پاکستانی ہے، پھر بلوچ ہوں؛ لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے والوں کو شکست ہوگی: سرفراز بگٹی
ریاست کے خلاف سازش کرنے والے سن لیں! لا الہ الا اللہ ہمیں جوڑتا ہے، کوئی طاقت ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی۔

زیارت(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حرمت اور عزت کو دنیا میں منوایا گیا ہے، ہم نے اپنے سے سات گنا بڑے دشمن کے دانت کھٹے کیے ہیں اور آج دنیا کے بڑے لیڈرز پاکستان کی ترقی اور ٹیک آف (Take off) کو تسلیم کر رہے ہیں۔
قائداعظم ڈے کے حوالے سے زیارت میں منعقدہ تقریب سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ فاتح کو کھانے کھلائے جاتے ہیں، ہارے ہوئے کو نہیں۔ آج ہم فتح کے راستے پر ہیں اور بلوچستان میں ایک نیا روڈ میپ طے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کور کمانڈر بلوچستان اور سکیورٹی فورسز کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر گورننس کا ایسا ماڈل متعارف کروایا ہے جس کا مقصد عام بلوچی کی دہلیز تک اس کا حق پہنچانا ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے قوم پرستی اور لسانیت کا پرچار کرنے والوں کو کڑا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1947 سے پہلے ہماری کوئی شناخت نہیں تھی، لیکن آج میری پہلی پہچان ایک ’پرائڈ پاکستانی‘ (Proud Pakistani) کی ہے اور اس کے بعد میں ایک ’بلوچ‘ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیشہ ہمیں دو بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے؛ کبھی لسانیت پر اور کبھی مذہب کے نام پر، مگر ہم نے ہر سازش کو ناکام بنایا ہے۔
پشتون قبائل سے مخاطب ہو کر وزیراعلیٰ نے کہا کہ دشمن نے جب دیکھا کہ لسانی تقسیم ناکام ہو گئی ہے تو انہوں نے “لا الہ الا اللہ” کی بنیاد پر قائم پاکستان پر خوارج کے ذریعے حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد جہاد اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی/ ٹی ٹی اے) نے ہم پر جنگ مسلط کی، لیکن ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور دیگر علاقوں کے قبائل نے پاک فوج اور ایف سی کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان دہشت گردوں کو شکست دی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے عوام سے وعدہ کیا کہ بلوچستان دوبارہ مکمل امن کا گہوارہ بنے گا اور ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں اور غیر ملکی ایجنڈے پر چلنے والوں کو اب یہاں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
