سردیوں میں جوڑوں کا درد بڑھنا معمول ہے، گرم کپڑے پہنیں اور متحرک رہیں: طبی ماہرین

ٹھنڈ سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، مچھلی اور اخروٹ کا استعمال مفید ہے: ہڈیوں کے درد سے بچاؤ کے مشورے


بیلا(ڈیلی قدرت کوئٹہ)سردی کے موسم میں ہڈیوں کے جوڑ اور پرانے درد زیادہ محسوس ہونے لگتے ہیںسردیوں کا موسم جہاں ایک طرف خوشگوار احساس دیتا ہے، وہیں بہت سے افراد کے لیے جوڑوں کے درد اور اکڑا کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق سرد موسم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے جو گٹھیا، لوپس یا فائبرومائیلجیا جیسے امراض میں مبتلا ہوں۔ ٹھنڈ کی وجہ سے نہ صرف جوڑ سخت ہو جاتے ہیں بلکہ درد میں بھی واضح اضافہ محسوس ہوتا ہے۔طبی تحقیق کے مطابق سردیوں میں ہوا کے دبا میں تبدیلی جوڑوں کے درد کو بڑھا سکتی ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دبا کی تبدیلی سے پٹھوں، نسوں اور اردگرد کے ٹشوز میں سوجن پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں اکڑا اور تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ اس کی مکمل وجہ اب تک واضح نہیں ہو سکی، تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موسم سے جڑا جوڑوں کا درد ایک حقیقی مسئلہ ہے۔سردی میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے پٹھوں اور جوڑوں تک خون کی روانی کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے باعث پٹھے تنا کا شکار ہوجاتے ہیں اور جوڑوں کی لچک متاثر ہوتی ہے۔ آرتھوپیڈک ڈاکٹرز کے مطابق جوڑوں میں موجود چکناہٹ فراہم کرنے والا سیال (Synovial Fluid) سردی میں گاڑھا ہوجاتا ہے، جس سے حرکت مشکل اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں لوگ جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں، جس سے پٹھے کمزور اور کارٹلیج متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ صورتحال جوڑوں کی عمر کو مزید تیز رفتاری سے بڑھا دیتی ہے اور درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔عمر رسیدہ افراد میں وقت کے ساتھ جوڑوں کے گھسا کے باعث سردیوں میں درد زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس یا تھائیرائیڈ کے مریضوں کو بھی سرد موسم میں جوڑوں کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کھلاڑیوں میں بھی اگر وارم اپ اور کول ڈان کو نظرانداز کیا جائے تو سردیوں میں انجری اور جوڑوں کے درد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین چند سادہ عادات اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں:حرکت سے پہلے جوڑوں کو گرم کریں:متاثرہ حصوں پر گرم پانی کی پٹی یا صبح کے وقت نیم گرم شاور اکڑا کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہلکی پھلکی اسٹریچنگ بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔گھر کے اندر بھی متحرک رہیں:سردی میں باہر نہ جا سکیں تو گھر میں چہل قدمی، یوگا یا ہلکی پھلکی ورزشیں جوڑوں کو لچکدار رکھتی ہیں۔صحیح غذا کا انتخاب کریں:اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذائیں جیسے مچھلی، اخروٹ اور السی سوزش کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ وٹامن ڈی اور مناسب مقدار میں پانی پینا بھی جوڑوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔جوڑوں کو ٹھنڈ سے محفوظ رکھیں:گرم کپڑے پہنیں، خاص طور پر گھٹنے، کہنیاں اور کلائیاں ڈھانپ کر رکھیں۔ دستانے اور ہیٹنگ پیڈ بھی آرام پہنچا سکتے ہیں۔درست نشست کا انداز اپنائیں:غلط پوسچر جوڑوں پر اضافی دبا ڈالتا ہے، اس لیے سیدھا بیٹھنے اور اسکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھنے کی عادت ڈالیں۔جسم کے اشاروں کو نظرانداز نہ کریں:اگر درد یا سوجن غیر معمولی ہو تو آرام کریں، متاثرہ حصے کو اونچا رکھیں اور گرمی کا استعمال کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں تھوڑی سی احتیاط اور معمولات میں معمولی تبدیلیاں جوڑوں کے درد اور اکڑا کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں، جس سے سرد موسم بھی نسبتا آرام دہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert