ظلم کا ساتھ کبھی نہیں دوں گا، بگٹی قوم کا مستقبل تعلیم میں ہے ، چیف آف بگٹی میر سرفراز احمد بگٹی کا دستار بندی کی تقریب سے خطاب


ڈیرہ بگٹی / بیکڑ سوئی(قدرت روزنامہ) بگٹی قبیلے کے آٹھویں چیف منتخب ہونے پر میر سرفراز احمد بگٹی کی باقاعدہ دستار بندی کر دی گئی۔ اس پروقار اور تاریخی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ان کے سر پر رکھی جانے والی یہ روایتی دستار محض ایک اعزاز نہیں بلکہ بگٹی قوم کی خدمت اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ایک عظیم ذمہ داری ہے۔
سرفراز بگٹی نے اپنی تقریر میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی کسی ظالم کا آلہ کار نہیں بنیں گے بلکہ ہمیشہ مظلوم کا دست بازو بن کر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ روایات میں عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانا یا معصوموں کا خون بہانا شامل نہیں ہے۔ “ایک مظلوم ماں کے سامنے اس کے پیاروں کو گولیوں سے چھلنی کرنا بلوچیت نہیں بلکہ بربریت ہے”۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پہاڑوں پر جانے والے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیروں کے آلہ کار بننے کے بجائے اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں۔
بگٹی چیف نے اپنے مستقبل کے ویژن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح بگٹی قبیلے کے نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ علاقے میں اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے تاکہ بگٹی قوم بھی ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے۔

اس سے قبل بیکڑ سوئی ڈیرہ بگٹی میں ہونے والے ایک عظیم الشان جرگے نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کو بگٹی قبیلے کا آٹھواں چیف منتخب کر لیا ہے۔ مرکزی تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی دستار بندی کی گئی، جس میں نواب اکبر بگٹی کے پوتوں سمیت بگٹی قبیلے کی مختلف شاخوں کے میر، معتبرین اور وڈیروں نے اپنے ہاتھوں سے سرفراز بگٹی کی دستار بندی کی۔ اس تاریخی تقریب میں بلوچستان اور پنجاب سے بلوچ قبائل کے سربراہان، اراکین اسمبلی اور وزراء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

WhatsApp
Get Alert