سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں سخت ترامیم، ہڑتال اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد
دو نوکریاں رکھنے پر برطرفی اور مقدمہ ہوگا، یونین سازی کیلئے چیف سیکرٹری کی اجازت لازمی قرار: نوٹیفکیشن جاری

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان حکومت نے بلوچستان گورنمنٹ سرونٹس کنڈکٹ رولز 1979 میں ترمیم کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے لیے قوانین کومزید سخت کردیا ۔ گورنر بلوچستان کی منظوری سے چیف سیکرٹری بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں ترامیم کردی گئی ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین پر ہڑتال، دھرنے اور گھیراؤ میں شرکت پر مکمل پابندی ہوگی، نئی ترامیم میں کسی بھی قسم کی ہڑتال کو بدعنوانی اور مس کنڈکٹ قرار دے دیا گیا،اعلامیے کے مطابق دو سرکاری نوکریاں بیک وقت رکھنے پر ملازمت سے برطرفی اور مقدمہ ہوگا، سرکاری ملازمین کو نجی اداروں، ٹرسٹس اور این جی اوز سے وابستگی کی اجازت نہیں ہوگی ، یونین یا ایسوسی ایشن کی منظوری چیف سیکرٹری بلوچستان سے مشروط ہوگی ، غیر منظور شدہ ایسوسی ایشن کی رکنیت پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، اعلامیے کے مطابق سرکاری دفاتر کی دیواروں پر پوسٹرز اور نوٹس لگانے پر بھی پابندی عائد ہوگی ، سرکاری ملازمین کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کے نئے قواعد کے تحت حکومتی امور پر سوشل میڈیا پر بحث یا معلومات شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، سرکاری دفتر کی گھیراؤ یا دفتری تالہ بندی پر فوجداری کارروائی ہوگی، ہڑتال کے باعث غیر حاضری کو بریک ان سروس تصور کیا جائے گا، ایسوسی ایشن کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخ کی جا سکے گی، چیف سیکریٹری کو ایسوسی ایشنز کی منظوری اور منسوخی کا اختیار حاصل ہوگا جبکہ سرکاری ملازم پرائیویٹ کاروبار ، ملازمت یا کام نہیں کرسکیں گے۔
