بلوچستان میں دہشتگردی کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، کئی بڑے حملے ناکام بنائے: آئی جی پولیس محمد طاہر

سال 2025 میں 14 ہزار جرائم رپورٹ ہوئے، داخلی احتساب کیلئے سینٹر قائم کردیا گیا ہے: سالانہ کارکردگی رپورٹ


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے سال 2025 میں پولیس کی مجموعی کارکردگی سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال صوبے کو دہشتگردی اور امن و امان کے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم بلوچستان پولیس نے محدود وسائل کے باوجود مثر اور بروقت کارروائیوں کے ذریعے کئی بڑے نقصانات کو روکنے میں کامیابی حاصل کی آئی جی پولیس نے کہا کہ 2025 کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں مجموعی طور پر اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا، جس کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی واپسی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال ہے، تاہم کوئٹہ، گوادر اور دیگر اہم شہروں میں سڑکوں کی بندش اور بڑے حملوں میں واضح کمی آئی جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے محمد طاہر نے بتایا کہ بلوچستان پولیس نے جھل مگسی، گنداواہ، پنجگور، واشک اور مشکے میں پولیس اسٹیشنز پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں اور سرکاری املاک کو نقصان سے بچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول فور، تھریٹ الرٹس اور دیگر حساس امور کے حوالے سے باقاعدہ ایس او پیز جاری کیے گئے، جن پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے آئی جی پولیس کے مطابق سال 2025 میں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کیلئے عوامی رابطہ مہمات میں اضافہ کیا گیا، نفری کی تعیناتیوں کو بہتر بنایا گیا اور دستیاب وسائل کی منصفانہ تقسیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی تربیت کو ترجیح دی گئی تاکہ جدید چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فورس کو مزید مثر بنایا جا سکے انہوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس میں پہلی مرتبہ انٹرنل اکانٹیبلی سینٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اندرونی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس سے فیلڈ میں اہلکاروں کی سیکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے محمد طاہر نے انکشاف کیا کہ آئندہ چند ماہ میں صوبے میں انوسٹیگیشن، ٹریننگ اور دیگر اسپیشلائزڈ پولیس اسکولز قائم کیے جائیں گے، تاکہ تفتیشی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی سیکیورٹی کیلئے ایک جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت جوائنٹ چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا گیا ہے آئی جی پولیس نے بتایا کہ اسپیشل کرائم انوسٹیگیشن ونگ نے رواں سال کئی اہم اور اندھے کیسز کو حل کیا، جو پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک علاقائی مسئلہ ہے اور پولیس کی کارکردگی کو صرف واقعات کی تعداد کے بجائے جوابی کارروائیوں، روک تھام اور امن کے قیام کی بنیاد پر جانچا جانا چاہییپریس کانفرنس کے اختتام پر محمد طاہر نے بتایا کہ سال 2025 میں بلوچستان بھر میں مجموعی طور پر 14 ہزار 200 جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے، جو دیگر صوبوں کے صرف ایک بڑے شہر میں ہونے والے جرائم سے بھی کم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان پولیس مستقبل میں بھی عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert