پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے سلسلے میں دُکی میں پُرامن، منظم اور بھرپور احتجاجی مظاہرہ

دُکی(قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام کیسکو (QESCO) کے عوام دشمن طرزِ عمل، بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے نام پر عوام کی تذلیل، اور پیٹرول کے کاروبار کی بندش کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں دُکی کے علاقوں نانا صاحب، زیارت اور ہوسٹری میں ایک پُرامن، منظم اور بھرپور احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز پروفیسر اسد خان ترین، جمعہ خان زرکون، ضلع دُکی کے سیکریٹری وزیر خان ناصر، واحد خان جعفر، کمال خان مری اور ستار کاکڑ نے کی۔
مظاہرے میں پارٹی کارکنان، شہریوں اور مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے جائز مطالبات کے حق میں بھرپور آواز بلند کی۔ احتجاج کے بعد ایک جلسۂ عام منعقد ہوا جس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو کی جانب سے طویل لوڈشیڈنگ، فیڈرز کی بندش اور بجلی کے کھمبوں سے تاریں اتارنے کے باعث دُکی کے عوام مکمل طور پر بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔ ضلع دُکی کے تقریباً تمام علاقوں میں مسلسل بلیک آؤٹ کی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات، اذیت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ دُکی اور اس کے گرد و نواح میں قائم چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے نام پر عوام کی تضحیک، توہین اور ہراسانی اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے، جس سے شہریوں کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح مقررین نے کہا کہ پیٹرول کے کاروبار کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل ہی دُکی میں کوئلے کے کاروبار کی بندش نے عوام کو شدید معاشی بدحالی سے دوچار کر دیا ہے۔
ان حالات میں عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جو حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناکام پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی رہنماؤں نے دُکی بازار اور اس کے مختلف علاقوں میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی یونٹوں کا دورہ کیا، کارکنان سے ملاقاتیں کیں اور پارٹی کو مزید منظم، فعال اور مضبوط بنانے کے لیے اہم تنظیمی فیصلے بھی کیے۔ آخر میں مقررین نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان تمام عوامی مسائل کا فوری، سنجیدہ اور عملی حل نہ نکالا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر احتجاجی تحریک کو مزید تیز اور وسیع کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔
