بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، دہشتگردی کے پیچھے ’فتنہ الہند‘ کا ہاتھ ہے، پاک فوج سر کچل کر رہے گی: وزیراعظم شہباز شریف


قومی شاہراہ N-25 اور 5 دانش سکولوں کا سنگ بنیاد، پنجاب اپنے حصے سے 11 ارب بلوچستان کو دے رہا ہے کوئٹہ (قدرت روزنامہ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، بلوچستان کو دوسری صوبوں کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے ہیں، صوبے کی ترقی کے لیے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہمارے لیے خوشی کا دن ہے کہ ہم بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موجود ہیں اور ایسے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا ہے جن کا بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی سے براہ راست تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، بلوچستان ملک کا وہ صوبہ ہے جہاں غیور بلوچ، پشتون اور دیگر اقوام مقیم ہیں، اس صوبے نے پاکستان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر الحاق کا اعلان کیا تھا اور اس میں بلوچستان کے عوام اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کی رضامندی شامل تھی۔ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹا صوبہ ہے، سڑکیں، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات بلوچستان کے عوام کا حق ہیں، صوبے کی ترقی کے لیے ہرممکن وسائل مہیا کیے جائیں گے۔ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ کے وقت وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے لاہور میں اضافی وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، چاروں صوبوں نے مل کر ان کا مطالبہ پورا کیا جبکہ پنجاب نے خلا اپنے وسائل سے پورا کرنے کا وعدہ کیا، میں اس وقت پنجاب کا وزیراعلیٰ تھا، جب یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں اٹھایا تو پوری صوبائی اسمبلی نے اس کو سراہا کہ آپ نے ملک کے بہترین مفاد میں فیصلہ کیا ہے، پنجاب 11 ارب روپے سالانہ اپنے حصے سے بلوچستان کو دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں مساوی شامل نہیں ہوں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ایک کنبے اور ایک گھر کی مانند ہیں، بلوچستان کی ترقی کی دوڑ میں پورا پاکستان شامل ہے۔
مئی میں دشمن کو شکست فاش دی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں یادگار سبق سکھایا: دوٹوک پیغام وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، دشمن کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردی کے پیچھے خارجی ہاتھ ہے جو دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے پیسہ اور اسلحہ دیتے ہیں، دہشت گردی کے پیچھے فتنہ الہند ستان کا ہاتھ ہے۔ مئی میں معرکہ حق میں ہماری بہادر افواج نے ملک کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا اور شکست فاش دی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں انہیں ایسا تھپڑ مارا ہے جسے وہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمارے افسران، جوان اور عام شہری قربانیاں دے رہے ہیں لیکن یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور یہ خون رنگ لائے گا، ہماری فوج اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کا سر کچل کے رہیں گے اور دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا، دہشت گردی خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
جنوبی بلوچستان میں بھی دانش سکول بنیں گے، لیپ ٹاپ سکیم اور تعلیمی وظائف میں بلوچستان کا 10 فیصد اضافی کوٹہ وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کے لیے روشن چراغ ہے، جدید تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، پنجاب میں جو دانش سکول قائم کیے گئے ہیں وہاں ایچی سن سے بھی بہترین تعلیم ملتی ہے، طلبہ و طالبات کو تعلیم، رہائش اور خوراک مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے طلبہ کو تعلیم کی بہتر فراہمی کے لیے ڈیرہ بگٹی، سبی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور صحبت پور میں پانچ دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان صوبے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے صوبے میں مزید دانش سکول قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، اگرچہ وسائل محدود ہیں لیکن دانش سکولوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا، جنوبی بلوچستان میں چاغی اور واشو میں بھی دو دانش سکول قائم کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال بھی ایک لاکھ لیپ ٹاپ طلباء کو میرٹ پر دیئے گئے تھے، اس سال بھی لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا رہے ہیں، جب میں پنجاب کا وزیر اعلی تھا اس وقت بھی اس میں بلوچستان کا حصہ رکھا تھا، لیپ ٹاپ سکیم، تعلیمی وظائف، ایجوکیشن انڈونمنٹ فنڈ میں بلوچستان کے طلبہ و طالبات کا حصہ 10 فیصد زیادہ ہے اور یہ بلوچستان کے عوام کا حق ہے، کسی پر کوئی احسان نہیں ہے، اس پورے دورانیے میں ہم چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کر چکے ہیں، نوجوان ہماری آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں، انہیں ہم جدید علوم، لیپ ٹاپ اور تعلیمی وظائف کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھجوا کر قائد اعظم کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔
سیلاب متاثرین کیلئے عالمی بینک کی 112 ارب کی گرانٹ، رواں سال 57 ہزار گھر مکمل کر لیے جائیں گے وزیراعظم نے کہا کہ 2022ء میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا، بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے رواں سال 57 ہزار گھر مکمل ہو جائیں گے، دوسرے مرحلے میں بھی گھر تعمیر کیے جائیں گے، مجموعی طور پر 98 ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے، سیلاب متاثرین کے لیے عالمی بینک نے 112 ارب روپے کی گرانٹ دی ہے جو متاثرین میں تقسیم کی جائے گی۔
کچھی کینال منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے 4 ہفتوں میں فیصلہ کریں گے، سولر ٹیوب ویلز کیلئے وفاق کے 50 ارب انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لیے سولر ٹیوب ویلز کا منصوبہ بنایا گیا تھا، اس میں وفاق نے 50 ارب روپے فراہم کیے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان بھرپور کام کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایمانداری اور دیانتداری سے رقم خرچ ہو تاکہ بلوچستان دیگر صوبوں کے ہم پلہ ہو جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کچھی کینال منصوبے کی تکمیل انتہائی ضروری ہے، یہ بلوچستان کی زرعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، کچھی کینال کے لیے 40 ارب روپے کی مزید ضرورت ہے، اس پر مشاورت کی جائے گی، اس کے لیے ایک پلان بنایا گیا ہے، اگلے چار ہفتوں میں اس حوالے سے ٹھوس فیصلہ کر کے بلوچستان کے عوام کو تحفہ دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مل کر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھیں، مل کر آگے بڑھیں گے تو پاکستان انشاء اللہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گا۔
این 25 شاہراہ اور پاکستان ایکسپریس وے: این ایچ اے کے 40 فیصد منصوبے بلوچستان میں، 735 ارب کا کام جاری قبل ازیں وزیراعظم کو قومی شاہراہ N-25، آواران جھلجھائو روڈ اور صوبے کے مختلف علاقوں میں دانش سکولوں کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ این 25 منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ 810 کلومیٹر طویل روڈ ہے اور ایک ٹنل ہے، دسمبر 2027ء تک منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبوں پر کام کے دوران بہترین معیار کو یقینی بنایا جائے، اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے، منصوبہ مقررہ مدت سے پہلے مکمل ہونا چاہیئے۔ آج ہم نے پاکستان ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھا ہے، ایف ڈبلیو او اور این ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ کہ دو سال میں نہیں یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائے، چاروں صوبوں کو ترقی کا مساوی حق حاصل ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کے لیے آج ایک تاریخی دن ہے، وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں رابطے کو بہتر بنایا جائے، بلوچستان میں عام منصوبوں پر کام جاری ہے اور پاکستان ایکسپریس وے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وفاقی حکومت نے اس منصوبے کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کیے ہیں، بلوچستان کی ترقی رابطے سے ممکن ہے، این ایچ اے اپنا 40 فیصد کام بلوچستان میں کر رہا ہے، بلوچستان کے لیے فنڈز کی فراہمی پر ہم وزیراعظم کے مشکور ہیں، این 25 منصوبہ بلوچستان کے عوام کے لیے حقیقی معنوں میں گیم چینجر ثابت ہوگا، بلوچستان میں این ایچ اے 735 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، آج 16 ویں منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے، منصوبہ سی پیک کے لئے بھی اہم کردار ادا کرے گا اور کنیکٹوٹی بڑھائے گا، آواران جھلجھائو بیلا روڈ کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے، وزارت مواصلات اپنی آمدنی کو بھی مسلسل بڑھا رہی ہے، 30 جون 2024ء تک 68 ارب روپے کا ریونیو تھا…

WhatsApp
Get Alert