واپڈا کا موجودہ بجلی کی ترسیل کا نظام عوام کی ملکیت ہے، ایرانی تیل پر پابندی اور کسٹم چھاپوں کیخلاف پشتونخوانیپ کا پشین میں احتجاج

پشین (ڈیلی قدرت کوئٹہ ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی نااہل حکومتوں کی جانب سے واپڈا کمپنیوں اور فیڈرز کی نجکاری، سب ڈویژن دفاتر کی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں مزید اضافے جیسے اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں واپڈا فیڈرز کو ختم کرنا اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ناقابلِ برداشت ہے، کیونکہ واپڈا کا موجودہ بجلی کی ترسیل کا نظام عوام کی ملکیت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ گیس پریشر میں کمی، طویل لوڈشیڈنگ اور اضافی بلنگ نے غریب عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ گیس پریشر درست ہونے کی صورت میں مخصوص علاقوں کو نوازا جاتا ہے، جبکہ ضلع پشین کے لمڑان، یارو اور دیگر علاقوں میں عوام مسلسل محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے ذریعے بلنگ کا نظام سراسر عوام دشمنی، رشوت خوری اور کرپشن پر مبنی ہے۔ بیان میں ایف سی چیک پوسٹوں کو عوام کی تذلیل اور بھتہ خوری کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔

رہنماؤں نے واضح کیا کہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل پر پابندی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، بلکہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ صوبے کے عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل کے حصول کا باضابطہ معاہدہ کرے۔ تفتان سے لے کر کوئٹہ تک مختلف فورسز اور اداروں کی جانب سے پیٹرول و ڈیزل پر بھتہ خوری فوری طور پر بند کی جائے۔ انہوں نے کسٹم حکام کی جانب سے تاجروں کی دکانوں اور گوداموں پر چھاپوں، کسٹم چیک پوسٹوں پر اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹوں اور جبری اتارنے جیسے اقدامات کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ سلسلہ فی الفور ختم کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ منشیات، چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم میں اضافہ دراصل ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کرپشن، نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ رہنماؤں نے زرعی ٹیکس کو غریب عوام کی دسترس سے باہر قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ زرعی ٹیکس کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کو ایک اور پشتون دشمن اقدام قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چمن سے لے کر باجوڑ تک ڈیورنڈ لائن پر کاروبار کی بندش پشتون اور افغان عوام کے خلاف ایک سوچا سمجھا اور سازشی منصوبہ ہے، جس کا مقصد بالادست پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری پروفیسر اسد خان ترین، ضلعی سیکرٹری محمود ریاض، ضلعی ایگزیکٹوز سردار فیصل خان ترین، ڈاکٹر حیات کاکڑ، نصیب اللہ کلیوال ، انور وحدت اور سید جلیل باچا نے پشین واپڈا آفس کے سامنے منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں زبردست نعرہ بازی کی۔

مظاہرے کے اختتام پر واپڈا افسران کی دعوت پر پارٹی رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات تحریری و زبانی طور پر پیش کیے۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ پشتونخوا وطن کے دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے، صرف تربیلا ڈیم سالانہ تقریباً 20 ارب یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے، اس کے باوجود پشتونخوا وطن آج بھی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر قومی جرگے کے فیصلے کے مطابق سبی سے لے کر سوات تک پشتون آبادی کو پانچ روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرنا ہمارا جائز حق ہے۔ اگر کشمیری عوام کو تین اور ایک روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا سکتی ہے تو پشتونخوا وطن کے عوام کو بھی اپنے آبی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی سستے داموں دی جانی چاہیے۔ آخر میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہمارے تمام جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ان پر فوری عملدرآمد کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں اور غیور عوام کو مزید اس حد تک مجبور نہ کریں کہ وہ مجبوراً سخت احتجاج کا راستہ اختیار کریں۔
