طالبان کا اقوام متحدہ کا امدادی سامان لینے سے انکار، 25 کنٹینرز چمن بارڈر پر پھنس گئے، انسانی بحران کا خدشہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان کے لیے بھیجا گیا انسانی امدادی سامان افغان طالبان کی جانب سے وصول نہ کیے جانے کے باعث پاک افغان چمن بارڈر پر ایک ہفتے سے کھڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق امدادی سامان پر مشتمل 25 کنٹینرز سرحدی علاقے میں موجود ہیں تاہم افغان حکام کی جانب سے انہیں لینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اس حوالے سے افغان حکومت سے متعدد بار رابطہ کیا، مگر تاحال مثبت جواب نہیں ملا۔ افغان طالبان کی جانب سے امدادی سامان وصول نہ کرنے کے باعث سرحدی علاقے میں کنٹینرز کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، جس سے سامان کے ضائع ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ امدادی سامان میں افغانستان کے متاثرہ اور ضرورت مند عوام کیلئے بنیادی ضروریات پر مشتمل اشیا شامل ہیں، جو سرد موسم میں عوام کیلئے نہایت اہم ہیں۔ انسانی ہمدردی کے حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کی راہ میں رکاوٹ سے افغانستان میں پہلے سے سنگین انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے سفارتی اور تکنیکی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاکہ امدادی سامان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم تاحال صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔
