رمضان کی آمد سے قبل بلوچستان کے عوام کی نظریں پھر “رمضان فوڈ پیکج” پر، حکومتی پیکج کا دائرہ کار بڑھانے اور تقسیم سے وزراء و ایم پی ایز کا کردار ختم کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ماہ رمضان المبارک میں ایک ماہ کا عرصہ باقی ہے اور بلوچستان کے عوام گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی رمضان راشن پیکج کیلئے پر امید ہیں۔ گزشتہ سال بلوچستان حکومت کی جانب سے سفید پوش اور مستحق افراد کے لئے “رمضان فوڈ پیکج” تقسیم کیا گیا تھا جس سے صوبے کے 250,000 مستحق افراد مستفید ہوئے تھے، 48 کلو گرام راشن بیگ 7 افراد پر مشتمل خاندان کی 15 روزہ ضروریات پوری کرنے کے لئے دیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے مستحق افراد کیلئے رمضان پیکج کو صوبے بھر میں پزیرائی ملی تھی اور صوبے کے غریب اور مستحق افراد اس سال بھی رمضان فوڈ پیکج کیلئے پرامید ہیں۔ حالیہ ملکی سروے میں بلوچستان کے 17 اضلاع کو صوبے کے پسماندہ ترین اضلاع قرار دیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس سال بھی رمضان فوڈ پیکج کا اعلان کیا جائے اور اس کا دائرہ کار ڈھائی لاکھ افراد سے بڑھا کر مزید خاندانوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ عوامی حلقوں نے تجویز دی ہے کہ مجوزہ رمضان فوڈ پیکج کو متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے تقسیم کرنے کی پالیسی بنائی جائے اور اس عمل میں ایم پی ایز اور صوبائی وزراء کا کردار ختم کیا جائے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ رمضان فوڈ پیکج کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا ہے۔
شدید مہنگائی میں سفید پوش اور غریب طبقات کیلئے روز مرہ اخراجات اٹھانا مشکل ہو گیا ہے ایسے میں رمضان المبارک کے دوران غریبوں اور مستحقین کو ریلیف دینے کیلئے فوری انتظامات کئے جائیں۔
