بلوچستان میں سفارش اور رشوت کلچر کا خاتمہ، تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل بھرتی ٹیسٹ کے ذریعے ٹیسٹ کے چند گھنٹوں بعد بھرتی لیٹرز مل گئے

وزیر اعلیٰ نے کامیاب امیدواروں کو خود فون کرکے اطلاع دی ‘ سرفراز بگٹی کا پبلک سروس کمیشن کو بھی ڈیجیٹلائز کرنیکا اعلان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ خزانہ کے زیرِ اہتمام سرکاری ملازمتوں کے لیے “ڈیجیٹل ریکروٹمنٹ ٹیسٹ” کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد صوبے میں سفارش اور رشوت کلچر کا خاتمہ کر کے صرف میرٹ کی بنیاد پر نوکریاں فراہم کرنا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس تقریب میں خصوصی شرکت کی اور خود امیدواروں سے فون پر بات چیت کر کے ٹیسٹ کے شفاف ہونے کی تصدیق کی، انہوں نے واضح کیا کہ اب بلوچستان میں نوکریاں فروخت نہیں ہوں گی بلکہ صرف وہی نوجوان آگے آئے گا جو اپنی قابلیت ثابت کرے گا۔ وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اب سفارش اور رشوت کا دور ختم ہو چکا ہے اور ٹیسٹ مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ اور انسانی مداخلت سے پاک تھا، سرفراز بگٹی نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں کسی سفارش یا رشوت کی ضرورت پڑی؟ جس پر امیدواروں نے تصدیق کی کہ پورا عمل انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی تھا۔

وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج بلوچستان میں وہ تبدیلی آگئی ہے جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا، آج ایک مزدور، استاد اور ایک وزیر کا بیٹا ایک ہی کرسی پر بیٹھ کر ایک جیسا ٹیسٹ دے رہے ہیں، ٹیسٹ کے کامیاب انعقاد پر وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ خزانہ، بیوٹمز (BUITEMS) کی ٹیم اور دیگر متعلقہ حکام کو بہترین کارکردگی پر ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بطور انعام دینے کا اعلان کیا۔ اس ڈیجیٹل سسٹم کو جلد ہی بلوچستان پبلک سروس کمیشن اور صوبے کے تمام اضلاع تک پھیلایا جائے گا تاکہ ہر سطح پر بھرتیوں میں شفافیت لائی جا سکے، ٹیسٹ کے عمل کو پیپر لیس (Paperless) بنایا گیا اور جدید ٹیکنالوجی بشمول AI کا سہارا لیا گیا تاکہ نتائج فوری اور درست ہوں، تقریب کے آخر میں وزیرِ اعلیٰ نے میرٹ پر پورا اترنے والے کامیاب امیدواروں میں موقع پر ہی تقرری کے لیٹرز (Offer Letters) تقسیم کیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

WhatsApp
Get Alert