بلوچستان میں گندم اور آٹے کا بحران سنگین، صرف 5 سے 10 دن کا ذخیرہ باقی، سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) (یو این اے ) بلوچستان میں گندم اور آٹے کی صورتحال سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے ڈیجیٹل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں آٹے کی شدید کمی پیدا ہو چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتیں مہنگائی کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔ بدرالدین کاکڑ نے بتایا کہ پنجاب نے اگست سے دیگر صوبوں کو آٹے کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ گزشتہ چار دنوں سے جیکب آباد کے مقام پر سندھ سے بلوچستان آنے والی گندم اور آٹے سے لدی گاڑیوں کو روک دیا گیا ہے، جس کے باعث صوبے میں سپلائی لائن شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں صرف 5 سے 10 دن کے لیے گندم اور آٹے کا ذخیرہ موجود ہے، جس کے بعد صوبے میں آٹے کی ترسیل ممکن نہیں رہے گی۔ انہوں نے خبردار کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔ مرکزی چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 100 کلو آٹے کی قیمت 14 ہزار 700 روپے تک پہنچ چکی ہے، اور بلوچستان میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ بدرالدین کاکڑ نے وزیراعلی بلوچستان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دیگر صوبوں سے بات چیت کر کے گندم اور آٹے کی سپلائی بحال کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت پاسکو سے 2 سے 3 لاکھ بوری گندم منگوانے کی درخواست کرے تاکہ صوبہ رمضان المبارک اور نئی فصل آنے تک اس بحران سے نکل سکے۔
