جمعیت علماء اسلام کا 8 فروری کے انتخابات کے خلاف بلوچستان بھر میں ‘یومِ سیاہ’ منانے کا اعلان


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مرکزی جماعت کے فیصلے کی روشنی میں 8 فروری 2024 کے متنازع، بدترین اور منظم دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف بلوچستان بھر میں یومِ سیاہ منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام اضلاع، ڈویڑنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوامی رائے کو جس منظم منصوبہ بندی کے تحت پامال کیا گیا، وہ جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنے اور آئینِ پاکستان کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عوامی مینڈیٹ پر اس صریح ڈاکے کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔صوبائی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور لاقانونیت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں عوام کے حقِ انتخاب کو سلب کرنا صوبے کے مظلوم عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان ان حالات میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یومِ سیاہ کے موقع پر غیور عوام حکمرانوں کی اْس آئین سازی کے خلاف احتجاج کریں گے جو قرآن و شریعت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ جمعیت علماء اسلام اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ شریعت، آئین اور جمہوریت ایک دوسرے کے محافظ اور لازم و ملزوم ہیں، اور ان میں سے کسی ایک کو کمزور کرنا قومی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔صوبائی پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان عوامی مینڈیٹ پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو قطعی طور پر قبول نہیں کرے گی اور شریعت، آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پْرامن راستہ اختیار کیا جائے گا۔صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے تمام کارکنان، ضلعی و مقامی ذمہ داران یومِ سیاہ کی تیاری مکمل رکھیں اور احتجاجی پروگراموں کو منظم، باوقار اور پْرامن انداز میں کامیاب بنائیں۔

WhatsApp
Get Alert