حافظ نعیم الرحمن کا دورہ گوادر: میونسپل کمیٹی کو ماڈل سٹی بنانے اور جدید نظام کی فراہمی پر زور

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کا امیر جماعت اسلامی بلوچستان و ایم پی ایمولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور الخدمت ٹیم کے ہمراہ میونسپل کمیٹی گوادر کا دورہ،میونسپل کمیٹی پہنچنے پر چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر،چیف میونسپل آفیسر مکتوم موسیٰ اور کونسلران نے ان کا استقبال کیا۔امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن کو بلدیہ گوادر کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا۔اس موقع پر چیرمین میونسپل کمیٹی اور چیف آفیسر نے امیر جماعت اسلامی کو بلدیاتی امور اور میونسپل آفس کی تزئین و آرائش سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ گوادرکاوڑن2026، ترقیاتی حکمتِ عملی، انتظامی ڈھانچہ اور درپیش چیلنجز ہیں۔ چیرمین ماجد جوہر کے مطابق ماضی میں بلدیاتی معاملات جمود کا شکار رہے اور جی ڈی اے و میونسپل کمیٹی کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح نہیں ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔میونسپل کمیٹی گوادر،ضلعی انتظامیہ،جی ڈی اے اور جی پی اے کے ساتھ مل کر گوادر شہر کی تعمیروترقی کے لیے کام کرے گی۔شہر کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے گوادر کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جنوبی حصہ(قدیم آبادی)وسطی حصہ (سینٹرل، بازار اور تجارتی علاقہ)اور شمالی میں نئی آباد ہونے والی بستیاں۔ بریفننگ میں بتایا گیا کہ2023 کی مردم شماری کے مطابق میونسپل کمیٹی گوادر کی آبادی تقریباً70ہزار ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ1998میں بھی آبادی تقریباً 70 ہزار ہی تھی جبکہ2017 میں یہ بڑھ کر 90 ہزار ہو گئی تھی اور اب دوبارہ کم ہو کر 70 ہزارپرآ گئی ہے۔ اگر آبادی میں کم ہونے کا یہی منفی رجحان برقرار رہاتو آئندہ 10 برسوں میں آبادی مزید کم ہوکر 40سے50ہزار رہ جانے کا خدشہ ہے۔ میونسپل خدمات اور وسائل کی کمی کے حوالے سے بتایا گیا کہ بلدیہ گوادر نہ صرف اپنے وارڈز بلکہ ملحقہ یونین کونسلز سربندن، پشکان اور کنٹانی کو بھی فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی سہولیات فراہم کر رہی ہے، تاہم وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔40وارڈز کے لیے صرف ایک سینیٹری انسپکٹر اور ایک سپروائزر موجود ہیجبکہ کم از کم 4 انسپکٹرزاور8 سپروائزرز اورکوڑا اٹھانے کے لیے 40رکشوں کی ضرورت ہیمگر صرف14رکشے دستیاب ہیں۔ اسی طرح ڈمپر اور دیگر مشینری بھی ضرورت سے کہیں کم ہے۔ گوادر میں یومیہ تقریباً 120 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، جسے ٹھکانے لگانا موجودہ وسائل میں ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ چیرمین بلدیہ کے مطابق 2026 کا وژن کلین اینڈ گرین گوادر ہیمیونسپل کمیٹی نے 2026کوگوادر کی تبدیلی کا سال قرار دیا ہے۔ اس وڑن کے تحت شہر کو ماڈل سٹی بنایا جائے گا اور صفائی کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ شہری گھر بیٹھے شکایات درج کرا سکیں۔فائربریگیڈ کے عملے کی تربیت کے لیے پاک بحریہ اور نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ماہرین سے مدد لی گئی ہے۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بلدیہ کے نئے دفتر اور جدید نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صرف دفاتر بنانا کافی نہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فیلڈ میں عملی نتائج نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو کلین اینڈ گرین بنانے کے لیے بین الاقوامی این جی اوز اور حکومتی ماحولیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ 8 سے 10 افراد پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے جس کا کام روزانہ کی بنیاد پر گلیوں کی چھوٹی موٹی مرمت، سڑکوں کے پیچ ورک اور صفائی کی نگرانی کرنا ہو۔انہوں نے کہا کہ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن کی صورت میں گوادر کو ایک مضبوط آواز میسر ہیجسے شہر کی بہتری کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے یقین دہانی کرائی کہ کراچی کی طرز پر گوادر کو بھی روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے ہر ممکن تکنیکی اور تربیتی تعاون فراہم کیا جائے گاتاکہ2026تک گوادر ایک ماڈل شہر کے طور پر ابھر سکے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ گوادر اور کراچی میں جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام ٹاؤن کے درمیان سسٹر ٹاؤن کا معاہدہ کیا جائے گا، تاکہ ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ جماعت اسلامی کراچی کی ٹیم میونسپل کمیٹی گوادر کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
