صوبائی حکومت مسلط کردہ اور عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے، عبدالخالق ہزارہ کی سخت تنقید

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ جن پارٹیوں کے اتحاد سے صوبائی حکومت تشکیل دی گئی ہے ان جماعتوں کے کارکن بلدیاتی انتخابات کے لئے ان پارٹیوں کے ٹکٹ لینے سے کتراتے ہیں اور آزاد حیثیت یا ایک گروپ بناکر عوام کے پاس جاتے ہیں جن لوگوں کی حیثیت اپنے گھر اور ضلع میں ایک بلدیاتی سیٹ جتنے کی نہیں ان پیراشوٹروں اور مافیائی افراد کو کوئٹہ تباہ کرنے کیلئے کوئٹہ سے کامیاب کرایا گیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے شہید چئیرمین حسین علی یوسفی کی ستارھویں برسی کے جلسہ اور نومنتخب ایگزیکٹیو و مرکزی کونسل کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے پارٹی رہنماوں احمد علی کوہزاد، زمان دہقانزادہ،سیما بتول اور مرتضی سلطان نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ اسٹیج سکیرٹری کے فرائض ڈاکٹر سخی نے انجام دیا۔ مقررین نے شہید چیئرمین حسین علی یوسفی کی قومی، ادبی، سیاسی، ثقافتی، علمی اور سماجی خدمات پر انھیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید یوسفی کی پوری زندگی ہماری اور آنے والے نسلوں کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ مقررین نے شہید یوسفی کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کرتے ہوئے مظلوم انسانوں اور ہزارہ قوم کے قومی شناخت قومی حقوق کے لئے ہر سطح پر جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہے اس سے نکلنے کیلئے ہمیں قیادت کے فقدان کی جانب توجہ دینی ہوگی اور عالمی سطح پر قوم کو منظم کرکے ہزارہ قوم کے ساتھ انکے مادروطن میں روا رکھی جانے والی قومی، نسلی، لسانی و مذہبی جبر و ظلم کے خلاف بھرپور مہم چلانے اور انسانی بنیادوں پر عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ پارٹی رہنماوں نے افغانستان کے مسلط شدہ جابر و ظالم مذہبی کم قومی شاونسٹ گروہ کی جانب سے صدیوں بعد غلام داری کو جائز قرار دینے کو دنیا کے انسان دوست و ترقی یافتہ اقوام کیلئے چیلینج قرار دیا اور کہا کہ ننی بچیوں کو طفلانہ سالی کے دوران نکاح بالجبر میں لانے کیلئے یہ قانون پاس کی گئی ہے اسی طرح ایک مخصوص فرقہ کے عقیدے کو مسلط کرکے دیگر عقائد کو خلاف شریعت قرار دینے کے عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ جس طرح کی معاشرتی تقسیم بندی کی گئی ہے وہ اسلامی مساوات اور اسلام کے بنیادی درس کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اٹھنا ہوگا اور افغانستان کے اکثریتی اقوام کو ایک اقلیتی گروہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا اگر عالمی برادری خاموش رہی تو انسانی المیوں کی زمہ داری ان پر عائد ہوگی۔پارٹی رہنماوں نے کہا کہ صوبے میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومت عوام پر مسلط کی گئی ہے ان کے پاس کرپشن کے سوا کوئی پروگرام نہیں کوئٹہ شہر اور صوبہ اپنے بدترین دور سے گذر رہاہے ایسے لوگ حاکم ہے جن سے اپنا گھر نہیں چلایا جاتا اسے صوبہ چلانے کیلئے درآمد کیاگیا ہے یہ ایسے افراد ہے کہ جنھیں انکے گلی اور محلے میں بھی منتخب نہیں کیا جاتا یہ لوگ زبردستی ڈنڈے اور انڈے کے زور پر لاکر اسمبلیوں میں عوام کا نمایندہ بنادیاگیا ہے انھیں کسی صورت نمایندہ تسلیم نہیں کرینگے۰ مقررین نے کہا کہ صوبہ کے حالات انتہائی خراب ہے اس وقت نہ گیس ہے نہ بجلی صوبے کے کئی اضلاع میں موبائل ڈیٹا بند اور نیٹ انتہائی سست، ملازمین ہڑتال پر مجبور جبکہ اساتذہ اور گرینڈ الائنس کے ملازمین کو جس بے دردی اور غیر انسانی طریقوں سے گرفتار کیا جارہاہے وہ انتہائی سفاکیت و بربریت کو ظاہر کرتا ہے ان تمام خرابیوں کی وجہ حقیقی عوامی نمایندوں کو اسمبلیوں سے دور رکھنا ہے جو لوگ آج مسلط کئے گئے ہیں انکے پاس امن قائم کرنے کا مینڈیٹ ہی نہیں اور اگر اسی طرح اسمبلیاں بنتی رہی مافیاز اور پیراشوٹرز لاکر مسلط کیا جاتا رہا تو حالات کھبی بہتری کی طرف نہیں جائیں گے اگر مقتدر قوتیں حقیقی معنوں میں صوبے میں امن قائم کرنے کے خواہاں ہے تو انھیں عوام کے حق رائے دہی کا احترام کرنا ہوگا پارٹی رہنماوں نے عوام کے حقوق کی جدوجہد کیلئے جمہوری سیاسی راستے کو اول و آخر قرار دیتے ہوئے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اس سے قبل پارٹی کے نومنتخب ایگزیکٹیو کونسل سے الیکش کمیٹی کے چئیرمین نے حلف لیا جلسے کے اختتام پر شرکا جلوس کی شکل میں ہزارہ قبرستان گئے جہاں انھوں شہید حسین علی یوسفی کے مقبرے پر گل پاشی کی اور انکی مغفرت کیلئے دعا کی گئی۔
