بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں مذاکرات ہیں، حکومت فوری طور پر اسمبلی کا اجلاس طلب کرے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ امن وامان کے قیام ،بدامنی وآئندہ مشترکہ لائحہ عمل کیلئے فوری طورپراسمبلی کااجلاس طلب کیاجائے۔دیرپاامن،حقوق دینے ومشکلات حل کرنے کیلئے طاقت آپریشن گولی کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین فورسزکے سربراہان وعمائدین سے مشاورت کاعمل شروع کیاجائے۔ان خیالات کااظہارانہوں انہوں نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مولاناہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان کے کئی اضلاع میں پیش آنے والے شدت پسندی کے واقعات اور کئی بے گناہوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ سویلین شہری وفوجی جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں کی شہادت انتہائی دلخراش اور قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کا اس طرح ضیاع،خواہ وہ کسی کی گولی سے ہواہو، ہرصورت میں ناقابلِ قبول ہے۔بے گناہ شہریوں کا خون کسی بھی جدوجہد یا مقصد کو جائز نہیں بنا سکتا۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے واضح کیا کہ ہم شروع دن سے ہی عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے خلاف رہے ہیں اور آئندہ بھی کسی صورت اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ بلوچستان میں بندوق کے زور پر نہ کبھی امن آیا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنے مقاصد حاصل ہوئے ہیں۔ بندوق صرف مزید نفرت، خوف اور لاشوں کو جنم دیتا ہے۔ہم پرامن،جمہوری اورآئینی جدوجہد کے حامی ہیں اور اسی راستے کو بلوچستان کے مسائل کا واحد اور پائیدار حل سمجھتے ہیں۔طاقت اور تشدد کے استعمال نے ہمیشہ عوام کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ اصل متاثرین عام شہری بنتے ہیں۔انہوں نیحکومت اور عسکریت پسندوں دونوں سے مطالبہ کیا کہ خدارا عسکریت پسندی اور طاقت کے استعمال کو ترک کیا جائے اور سنجیدہ، بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کیاجائیتاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکاجاسکے اور بلوچستان کے عوام ایک پرامن، محفوظ اور باوقار ماحول میں زندگی گزارسکیں۔ کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ، معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی شہادت اور صوبے میں امن و امان کی بدترین صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔آئے روز پیش آنے والے دہشت گردانہ حملوں نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہیجبکہ ریاستی اداروں اور حکومت کی ناکام حکمتِ عملی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ بلوچستان کے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، مگر بدقسمتی سے حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں آخر میں انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
