تحریک تحفظ آئین پاکستان کا تاجروں سے 8 فروری ہڑتال کی کامیابی کے لیے تعاون طلب

**کوئٹہ (قدرت روزنامہ):** تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نمائندہ وفد نے مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی اور دیگر کابینہ ارکان سے ملاقات کی۔ وفد میں کبیر افغان، سردار زین العابدین خلجی، ولایت حسین، حاجی صورت خان کاکڑ، امیر آغا اور محمد یونس شامل تھے۔
وفد نے تاجروں سے اپیل کی کہ 8 فروری 2026 کو پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں تاکہ ہڑتال کامیاب ہو۔ وفد نے کہا کہ ملک اور صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال، باڈر ٹریڈ کی بندش، تجارت اور روزگار کے دروازے بند ہونا، شورومز، گوداموں، مارکیٹوں اور تجارتی مراکز پر حکومتی فورسز اور اداروں کے چھاپے تاجروں، دکانداروں، مزدوروں اور عام عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا چکے ہیں۔
وفد نے کہا کہ ایک سازش کے تحت تجارت کو ختم کرنے اور عوام کے معاشی قتل عام کو جاری رکھا گیا ہے، جس کا خاتمہ 8 فروری 2024 کے زروزور کے انتخابات کے ذریعے مسلط نام نہاد حکومت سے نجات کے ذریعے ممکن ہے۔
اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران نے 8 فروری 2026 کے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھرپور حمایت کی اور تمام تاجروں، دکانداروں اور عوام سے ہدایت کی کہ وہ اپنی دکانیں، مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند کر کے ہڑتال کی کامیابی میں تعاون کریں۔
بعد ازاں، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے چیمبر آف کامرس میں ایوب مریانی، آغا گل اور دیگر کابینہ ارکان سے ملاقات کی اور ہڑتال کی کامیابی کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ وفد نے کہا کہ صوبے میں جاری معاشی اور تجارتی بحران، مہنگائی اور بیروزگاری کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
