چمن میں پولیو ورکرز پر حملہ، پولیس اہلکار کی شہادت پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی شدید مذمت


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) – پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں گزشتہ روز چمن کے یونین کونسل روغانی تھری، کلی جانان میں پولیو ورکرز پر دہشت گردانہ حملے اور اس کے نتیجے میں پولیس اہلکار نظام خان کی شہادت کو حکومت، ریاستی اداروں اور ناکام سکیورٹی پالیسیوں کا براہِ راست نتیجہ قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
بیان میں شہید پولیس اہلکار کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ چمن شہر اور اس کے اطراف کے علاقے مکمل طور پر بدامنی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی، مسلح ڈکیتی، چوری اور منشیات فروشی کے واقعات معمول بن چکے ہیں، لیکن انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ معاشرے میں آج بھی انتہاپسند اور دہشت گرد قوتیں موجود ہیں جو پولیو کے قطرے پلانے جیسے انسانی اور قومی فریضے کو ناجائز قرار دیتی ہیں اور انہیں ریاستی سرپرستی اور چشم پوشی حاصل ہے۔ پشتونخوا نیپ نے واضح کیا کہ گزشتہ پچاس برسوں سے دہشت گردی پر مبنی پالیسیوں نے پشتونخوا وطن کو آگ و خون میں جھونک رکھا ہے اور لاکھوں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
پشتونخوا نیپ نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشت گردوں کی حقیقی پشت پناہی ختم نہیں کی جاتی اور ملک کے معاملات عوام کے منتخب اور جمہوری نمائندوں کے حوالے نہیں کیے جاتے، اس وقت تک دہشت گردی کے اس ناسور سے نجات ممکن نہیں۔

WhatsApp
Get Alert