تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس: 8 فروری کے غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت، سیاسی کارکنوں کے حقوق کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) – پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان کی زیر صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں تحریک انصاف اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی سے سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس، مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ اور حضرت علی نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں 8 فروری 2026 کو ہونے والی پرامن پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران سیاسی کارکنوں، راہ چلتے شہریوں اور ریڑھی بانوں کی غیر قانونی گرفتاری، انہیں کوئٹہ جیل میں حبس بیجا میں رکھنا، غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انور کاکڑ کے ناروا رویے اور جیل انتظامیہ کی جانب سے بنیادی سہولیات سے محرومی کے اقدامات زیر غور آئے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ملک کا متفقہ آئین سیاسی جمہوری جدوجہد کی آزادی دیتا ہے، لیکن مسلط حکومت کے پرامن احتجاج کے نام پر غیر قانونی اقدامات قابل مذمت ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے نام پر کوئٹہ شہر میں شہریوں کو ذہنی اذیت دی گئی، تمام شاہراہیں بند کی گئیں، شہری بدترین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور وی آئی پی موومنٹ کے دوران شہریوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس نے کہا کہ مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے 8 فروری کے احتجاج کا شیڈول منسوخ کیا تھا، عمران خان کی رہائی ہونی چاہیے اور جماعت جمہوریت کے لیے ہمیشہ کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں پر تشدد اور گرفتاری کی شدید مذمت کی اور آئندہ کے لائحہ عمل میں ہر قسم کا تعاون کرنے کا اعلان کیا۔
اجلاس سے مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیاسی جمہوری احتجاج کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا، صوبے میں تجارت اور روزگار بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، اور غیر قانونی چھاپوں اور ضبطی کے اقدامات سے معاشی نقصان پہنچ رہا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماﺅں نے عدالتی بار کونسل کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے غیر آئینی اقدامات کو قانونی چارہ جوئی کے ذریعے روکا جائے گا اور سیاسی کارکنوں کا راستہ جبر و تشدد سے نہیں روکا جا سکتا۔

WhatsApp
Get Alert