مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد معطل، صوبائی خود مختاری پامال کرنے کی کوشش ناکام، عدالتی فیصلہ بلوچستان کے مفادات کی فتح ہے، عبدالرحیم زیارتوال

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف دائر آئینی درخواست پر عدالت نے سماعت کے بعد ایک ہفتے کے لیے اس ایکٹ پر عملدرآمد ملتوی کر دیا ہے۔ درخواست گزار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے عدالتی اقدام کو بلوچستان کے مفادات کی فتح اور صوبے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا ایک ہفتے کے لیے ایکٹ کو ملتوی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے موقف میں قانونی اور آئینی وزن موجود ہے اور عدالت مقامی مفادات اور صوبائی خودمختاری کے نکات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف قانونی چارہ جوئی تک محدود نہیں بلکہ آئین اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ سے متعلق ہے، جس کی وجہ سے قانونی نگرانی ناگزیر تھی؛ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں صوبائی خودمختاری کو پامال کیا گیا ہے اور موجودہ کابینہ نے آئین کے برخلاف یہ ایکٹ منظور کیا، جو ایک سنگین معاملہ ہے اور اسے قانونی طور پر پرکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے ذریعے صوبے کے اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں اور مقامی لوگ اپنے قدرتی وسائل سے محروم ہو رہے ہیں، جس سے صوبے کے عوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں؛ عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوا کہ مقامی اور آئینی مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی راستے فعال ہیں اور بلوچستان کے عوام کو اپنے وسائل کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائے اور آئندہ قانون سازی میں صوبائی مفادات اور عوامی حقوق کو ترجیح دی جائے؛ ان کا موقف تھا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل صوبے کے عوام کے لیے ہیں اور ان کا استحصال یا وفاقی سطح پر کنٹرول مقامی مفادات کے خلاف ہے، لہٰذا انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور آئینی چارہ جوئی میں متحد رہیں تاکہ مستقبل میں صوبے کے وسائل پر غیر ضروری اثرات سے بچا جا سکے۔
