بلوچستان اسمبلی ‘ ترقیاتی اسکیمیں من پسند پی ڈیز کے حوالے کرنے پر وزراء اور اراکین پھٹ پڑے،

فیلڈ افسران کو نظرانداز کر کے چھوٹی اسکیموں کو ملا کر 3 ارب کا منصوبہ بنایا جاتا ہے ‘ سلیم کھوسہ ‘ عبدالرحمٰن کھیتران


(ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان کے وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی نے مختلف محکموں کے ترقیاتی کاموں کو یکجا کر کے پی ڈیز اور محکمہ یو پی اینڈ ڈی کے ذریعے کروانے کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تمام کام پی ڈیز کے ذریعے کروانے ہیں تو دیگر محکموں کو بند کردیا جائے ، وزیرعلیٰ کے ایک دوست کو تمام کام دئیے جارہے ہیں ۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہو ہوئے پارلیمانی سیکرٹری میر اصغر رند نے کہا کہ کیچ میں نیا ضلع بنانے پر وہ ایوان اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کیچ میں تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں ٹینڈر آئے لیکن وہ اچانک منسوخ کر دیے گئے اس کی وجوہات بتائی جائیں ۔صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے سکولوں کی اپگریڈیشن کی اسکیمات تھیں جن کے ٹینڈر منسوخ کر کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ بناکر اس کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے قوانین کے تحت تین ارب روپے کے منصوبے کا پی ڈی تعینات کیا جاتا ہے لیکن بلوچستان میں چھوٹی چھوٹی اسکیمات کو اکٹھا کر کے تین ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ بنا کر ایک پی ڈی تعینات کر دیا جاتا ہے محکمہ سی این ڈبلیو کے متعدد منصوبے اسی طریقے سے دوسرے محکمہ میں ٹرانسفر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صوبہ بندی و ترقیات کے وزیر بتائیں کہ یہ کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے فیلڈ میں تمام افسران موجود ہیں اگر ان کے بجائے کوئٹہ میں بیٹھے پی ڈی سے کام کروانا ہے تو پھر اس محکمہ کو ختم کر دیا جائے اور سارے کام پی ڈیز سے کروائے جائیں انہوں نے کہا کہ پی ڈیز کو ایک ہیلی کاپٹر بھی لے دیں تاکہ وہ کوئٹہ سے بیٹھ کے بلوچستان کے دورے کر کے منصوبوں کا معیار بہتر بنائیں۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ تمام اسکیمیں پی ڈیزکے پاس چلی گئی ہیں محکمہ اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مختلف محکموں کی اسکیمات ڈالی جا رہی ہیں موسی خیل میں روڈ، بلڈنگ ،واٹر سپلائی سمیت دیگر سکیمات کو بھی متاثر کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ایچ کی خضدار کی تمام اسکیمات کو یو پی اینڈ کے حوالے کر کے وزیراعلی کے یار غار آغا شکیل درانی کو دے دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں جو باتیں ہوتی ہیں منٹس اس سے مختلف منظور ہوتے ہیں سرکولیشن کے ذریعے فیصلے کیے جا رہے ہیں اس موقع پر ایک بار پھر مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ کیا یہ ایجنڈا چل رہا ہے ؟اسپیکر نے کہا کہ میں نے دو سالہ کارکردگی پر بات کرنے کے لیے نام منگوائے ہیں یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ کیسے ایک محکمے کی اسکیمات دوسرے محکمے میں جا رہی ہیں۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اس کی وضاحت کریں۔ جس پر صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزرا کو یہ باتیں کابینہ میں کرنی چاہیے پلاننگ کمیشن کے مینول کے تحت تین ارب روپے سے زائد لاگت کے منصوبے کاپی ڈی تعینات ہوتا ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی ہے جس میں متعلقہ محکموں کے سیکرٹری ہوتے ہیں وہ مل کر پی ڈی تعینات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیمات کو ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں منتقل کرنے کا اختیار کابینہ کے پاس ہے اور بعد میں اسے ضمنی بجٹ میں منظور کرایا جاتا ہے کچھ مسائل ضرور ہیں ان پر بات کی جا سکتی ہے ۔اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ حکومت چھ ارب روپے کا راشن خرید رہی ہے پھر بعد میں جب ضمنی بجٹ میں آئے گا تو کہا جاتا ہے اب تو یہ رقم خرچ ہوچکی ہے ۔ کوئٹہ میں دو ارب روپے صفائی کے لیے ایک کمپنی کو دیے گئے اور ساتھ ہی مشینری بھی دے دی گئی، محکمہ تعلیم کا سولرائزیشن سے کیا کام ہے ؟صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کیوں رمضان پیکج تقسیم کر رہا ہے اس کا کام آفات سے نمٹنا ہے ایک کوٹیشن کے ذریعے راشن خریدا جا رہا ہے اس منصوبے کا بھی پی ڈی ہونا چاہیے تھا ۔جمعیت علماء اسلام کے رکن ڈاکٹر نواز کبزئی نے کہا کہ ایک دن پہلے ٹینڈر منسوخ کر دیے جاتے ہیں پی ڈی غیر متعلقہ لوگ ہیں ان کا عمل دخل روکا جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ دو سرا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر ایوان کو روایات کے تحت چلانے پر سپیکر اور اپوزیشن کو…

WhatsApp
Get Alert