قلات جوہان ری پولنگ انتخابی عمل نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے، 48 کاپیاں غائب ہونا بدترین جعلسازی ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع کا شدید ردعمل

کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے قلات جوہان میں ہونے والے مضحکہ خیز ری پول پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابی عمل نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک ڈھٹائی آمیز ڈرامہ اور عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکہ ہے۔ سرینا ہوٹل منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک مرتبہ پھر دن دیہاڑے جمعیت علماء اسلام کی واضح اکثریت پر شب خون مارا گیا اور سرکاری سرپرستی میں نتائج کو مسخ کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب انتخابی عمل کو باقاعدہ منڈی بنا دیا جائے اور 73 کاپیوں میں سے 48 کاپیاں سرے سے ہی غائب کر دی جائیں تو اسے انتخاب نہیں بلکہ بدترین جعلسازی اور جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق کہا جائے گا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں بارہا یہ المیہ دہرایا جاتا رہا ہے کہ عوام ووٹ ایک امیدوار کو دیتے ہیں مگر نتائج میں کسی دوسرے امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے۔ جمعیت علماء اسلام اس تلخ حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ جب بھی ہم عوام کا مقدمہ لڑتے ہیں اور ان کے حقِ نمائندگی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے؛ درحقیقت مخصوص قوتوں کا اصل ہدف جمعیت علماء اسلام کا راستہ روکنا اور عوامی قوت کو کمزور کرنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جمعیت علماء اسلام سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عوام کو اس لولہ لنگڑی، مسخ شدہ اور مصنوعی جمہوریت کا حصہ بننے کی ترغیب دیتی رہے، سراسر خودفریبی ہے۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رکھنا ہے تو بہتر یہی ہوگا کہ اسلام آباد میں ایک مستقل کمیٹی قائم کر دی جائے جو بند کمروں میں بیٹھ کر مخصوص افراد کے نام طے کرے اور اقتدار ان کے حوالے کر دے، تاکہ نہ عوام کو بار بار ذلیل و خوار کیا جائے اور نہ انتخابی ڈراموں پر قومی خزانے کو لٹایا جائے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آج کے پورے دن کے اس تماشے نے اس حقیقت پر بھی مہر ثبت کر دی ہے کہ بدقسمتی سے بلوچستان کو اکثر ملک کے اربابِ اختیار کے سیاسی سودوں کا مرکز بنایا جاتا ہے، جہاں اقتدار کی بساط بچھاتے وقت بلوچستان کی حکومت کو بطور تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف صوبے کے عوام کی توہین ہے بلکہ وفاقی نظام اور جمہوری اقدار کے لیے بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ دہائیوں سے جاری امتیازی، استحصالی اور تحقیر آمیز رویہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ برقرار ہے۔ اس صوبے کے عوام سے صرف وسائل ہی نہیں بلکہ ان کا سیاسی حقِ خودمختاری اور حقِ نمائندگی بھی مسلسل چھینا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل پورے ملک کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں کے عوام کو بنیادی حقِ رائے دہی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے اور ان پر مصنوعی قیادت مسلط کی جا رہی ہے۔ جب عوامی مینڈیٹ کو طاقت کے زور پر روند کر نتائج تبدیل کیے جاتے ہیں تو اس سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیواریں مزید بلند ہو جاتی ہیں۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے حقیقی عوامی نمائندوں کی تضحیک اور عوام کے فیصلے کو سرکاری طاقت کے ذریعے بدلنے کی روش دراصل نفرت، بداعتمادی اور سیاسی بے چینی کے خطرناک بیج بو رہی ہے؛ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی آواز کو دبایا جاتا ہے اور ان کے فیصلوں کو پامال کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج ہمیشہ بھیانک اور دور رس ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور بلوچستان اور ملک کے عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ اور صوبے کے حقوق کے لیے ہر سیاسی، آئینی اور جمہوری محاذ پر بھرپور اور فیصلہ کن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
