کوئٹہ ٹریفک نظام میں بڑی تبدیلی:خستہ حال 68 بسیں ضبط اور رکشوں کی کمپیوٹرائزیشن شروع، بلوچستان ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش


کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ کے ٹریفک مسائل اور پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی جس کے دوران عدالت نے ٹریفک مسائل کو شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے دو وکلاء کو مداخلت کار کے طور پر شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے خستہ حال 68 لوکل بسیں تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ غیر قانونی رکشوں، ٹینٹڈ شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ ڈبل روڈ پر غلط پارکنگ کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے کوئٹہ–کچلاک روٹ پر 2022 ماڈل کی نئی کوسٹر بسیں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ 21 نئی گرین بسیں بھی کوئٹہ پہنچ گئی ہیں جن میں سے 17 کوئٹہ اور 4 تربت کے لیے مختص کی گئی ہیں، یہ گرین بسیں عام مسافروں جبکہ پنک بسیں خواتین کے لیے ہوں گی جس سے شہر میں آپریشنل بسوں کی کل تعداد 25 ہو گئی ہے۔
مشترکہ کارروائیوں میں 44 غیر قانونی رکشے ضبط اور 19 جعلی پرمٹ پکڑے گئے ہیں جبکہ اب تک 7036 رکشوں کے مینوئل پرمٹ کمپیوٹرائز کیے جا چکے ہیں اور 5000 سیکیورٹی پیپرز کی چھپائی کا آرڈر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کراچی کو دے دیا گیا ہے۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے واٹر ٹینکرز کی آمد و رفت صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک محدود کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے جبکہ رکشوں اور واٹر ٹینکرز کی آر ایف آئی ڈی (RFID) ٹیگنگ اور بلوچستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے پر بولیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید برآں کوئٹہ شہر میں نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب کا منصوبہ تیار ہے جو آئندہ ماہ کے آخر تک مکمل ہونے کا امکان ہے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔

WhatsApp
Get Alert