بلوچستان کا تعلیمی المیہ: 4 ماہ سے بند سکول اور آن لائن تعلیم کا ‘خواب’، مستقبل داؤ پر لگ گیا
سرد علاقوں میں نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے ہی بحران کا شکار، 35 لاکھ بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر، "پٹرول کی بچت کیلئے تعلیم کی قربانی قبول نہیں"، مقامی تعلیمی رہنماؤں کا دہائی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور توانائی کے عالمی بحران کا سب سے زیادہ شکار صوبہ بلوچستان کا تعلیمی شعبہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کی بندش نے بلوچستان کے ان علاقوں میں سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں پہلے ہی تعلیمی سال کا دورانیہ ملک کے دیگر حصوں سے کم ہوتا ہے۔
تعلیمی کیلنڈر کی تباہی
بلوچستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کے صدر نظر محمد بڑیچ اور مقامی ماہرین کے مطابق، صوبے کے سرد علاقوں (کوئٹہ، قلات، زیارت وغیرہ) میں نومبر کے وسط سے سرمائی تعطیلات شروع ہو جاتی ہیں۔ یکم مارچ سے نیا تعلیمی سال شروع ہونا تھا، مگر رمضان المبارک اور اب عالمی کشیدگی کے بہانے تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش نے نئے تعلیمی سال کو شروع ہونے سے پہلے ہی مفلوج کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں سالانہ 200 تدریسی دن ہونے چاہئیں، وہاں بلوچستان میں بمشکل 100 دن بھی پورے نہیں ہو پا رہے۔
آن لائن تعلیم: ایک تلخ حقیقت
حکومت کی جانب سے آن لائن کلاسز کی تجویز کو بلوچستان کے تناظر میں ایک “مذاق” قرار دیا جا رہا ہے۔
انٹرنیٹ کی عدم دستیابی: صوبے کے بیشتر دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت یا تو سرے سے موجود نہیں یا اس قدر سست ہے کہ ویڈیو کال ناممکن ہے۔
بجلی کا بحران: لوڈ شیڈنگ کے باعث طلبہ کے لیے ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
معاشی تفاوت: صوبے کے لاکھوں غریب خاندانوں کے پاس اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت نہیں، جس سے امیر اور غریب طالب علم کے درمیان تعلیمی خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔
ماہرین کا انتباہ
کوئٹہ کے تعلیمی ماہر زاہد جان مندوخیل کا کہنا ہے کہ “کوئٹہ جیسے سرد علاقے میں تعلیمی تسلسل پہلے ہی ایک چیلنج ہے، اب بار بار کی بندش سے طلبہ کی ذہنی نشوونما اور سیکھنے کا عمل رک گیا ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ کورونا کے دوران پہلے ہی ہزاروں بچے تعلیم چھوڑ چکے ہیں، اور موجودہ پالیسی سے یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، جو کہ پہلے سے پسماندہ صوبے کے لیے ایک بڑا قومی نقصان ہوگا۔
مطالبہ اور متبادل حل
بلوچستان کے تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
تعلیمی اداروں کو مکمل بند کرنے کے بجائے ہائبرڈ ماڈل (ہفتے میں 3 دن کلاسز) اپنایا جائے۔
پٹرول کی بچت کے لیے غیر ضروری سرکاری پروٹوکول اور افسر شاہی کی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔
تعلیم کو “بنیادی حق” سمجھتے ہوئے اسے ہر قسم کے سیاسی اور معاشی بحران سے الگ رکھا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بلوچستان کی مخصوص جغرافیائی اور تعلیمی صورتحال کو سمجھے بغیر فیصلے مسلط کیے، تو اس کے نتائج آنے والی کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔
