شہداء کا خون رائیگاں نہیں جاتا، تاریخ کا دھارا موڑ کر آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بنتا ہے: مولانا عبدالواسع

موسیٰ خیل میں ”شہید سرفراز کانفرنس“ سے خطاب، جمعیت طلباء اسلام کو سامراجی قوتوں کے خلاف مضبوط محاذ قرار دیا شہید ڈاکٹر سرفراز نے حق کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کیا کہ سچا کارکن حالات کے سامنے نہیں جھکتا: صوبائی امیر جے یو آئی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا بلکہ وہ تاریخ کے دھارے کو موڑ کر آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتا ہے، ایسے انقلابات وقتی نہیں بلکہ صدیوں تک اپنے اثرات قائم رکھتے ہیں، یہ بات انہوں نے موسیٰ خیل میں ‘‘شہید سرفراز کانفرنس’’سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل کے عوام نے جس والہانہ انداز میں اپنی قیادت کا استقبال کیا وہ اس حقیقت کا دوٹوک اعلان ہے کہ یہ سرزمین جمعیت کا ایک مضبوط قلعہ ہے جہاں نظریہ اور وابستگی محض الفاظ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔انہوں نے جمعیت طلباء اسلام کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ملک کے نوجوانوں کی ایک منظم، باصلاحیت اور نظریاتی قوت ہے جو مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرکے انہیں دین، ملت اور وطن کی خدمت کے لیے تیار کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت طلباء اسلام سامراجی قوتوں اور استحصالی نظام کے خلاف ایک مضبوط فکری و عملی محاذ ہے، دین دشمن عناصر کے لیے ایک چیلنج اور نوجوانوں میں اسلامی انقلابی شعور بیدار کرنے کی ایک مؤثر تحریک ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور ان کی کردار سازی کے لیے کوشاں ہے بلکہ معاشرتی اصلاح، فرقہ واریت کے خاتمے اور لسانی و علاقائی تعصبات کے سدباب کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے شہید ڈاکٹر سرفراز کی خدمات، قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید سرفراز محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک عزمِ مسلسل کا نام ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی جمعیت طلبائ￿ اسلام کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کی فکری و نظریاتی تربیت، تنظیمی استحکام اور دینی شعور کی بیداری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ میدانِ عمل کے مرد تھے جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں جرات، استقامت اور حق گوئی کا دامن تھامے رکھا۔ ان کی جدوجہد اس بات کی آئینہ دار ہے کہ سچا کارکن کبھی حالات کے سامنے نہیں جھکتا بلکہ اپنے نظریے کی سربلندی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ شہید سرفراز نے ظلم، جبر اور باطل قوتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بالآخر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کر دیا کہ حق کی راہ میں قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہید سرفراز کی زندگی نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال اور مشعلِ راہ ہے۔ ان کا کردار، ان کی استقامت، ان کی نظریاتی پختگی اور ان کی قربانی آج کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ اپنے مقصد سے جڑے رہیں، حق کا علم بلند کریں اور ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوجود اپنے نظریے کی حفاظت کریں۔ ان کی شہادت نے جمعیت طلباء اسلام کو ایک نئی روح، ایک نیا عزم اور ایک نئی توانائی بخشی ہے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں دینی و ملی شعور مزید بیدار ہوا ہے۔اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مولانا سرور ندیم کے حواکے سے انھوں نے کہا کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھے اور ہر وقت ان کے حل کے لیے متحرک رہے، اور یہی طرزِ عمل ایک مخلص نمائندے کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے باکردار اور محنتی رہنما میسر ہیں جو ہر حال میں عوام کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر صوبائی قیادت بالخصوص مولانا عبدالواسع اور حاجی نواز خان کاکڑ کا شاندار استقبال کیا گیا، سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل جلوس، فلک شگاف نعروں اور عوامی جوش و خروش نے اس منظر کو ایک تاریخی اجتماع میں بدل دیا۔ یہ کانفرنس اس امر کا واضح اعلان تھی کہ جمعیت علمائے اسلام ایک زندہ، متحرک اور نظریاتی تحریک کے طور پر آج بھی پوری قوت کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہے اور شہدائ￿ کی قربانیاں اس کے سفر کو مزید مضبوط اور تابناک بنا رہی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert