ڈاکٹر فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں تیزی، والدہ اور بھائی حمزہ عباسی کے جوائنٹ اکاؤنٹ سے بھاری ٹرانزیکشنز کا انکشاف


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) مشہور ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں انتہائی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس میں ان کی والدہ اور معروف اداکار بھائی حمزہ عباسی کے بھی مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی نے اپنی والدہ اور بھائی حمزہ عباسی کے جوائنٹ بینک اکاؤنٹ کو غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیا۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے لاکھوں ڈالرز اور درہم بیرون ملک منتقل کیے گئے، جبکہ ایف بی آر (FBR) ان بڑی منتقلیوں سے مکمل طور پر بے خبر رہا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے صرف تین بینک اکاؤنٹس کے ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے تھے، جن کی جانچ پڑتال کے دوران سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ ڈاکٹر فضیلہ عباسی بیرون ملک بھیجی گئی لاکھوں ڈالرز کی رقم کی تفصیلات یا کوئی بھی مستند دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایف آئی اے کو جو 2 لاکھ ڈالر کی رسیدیں فراہم کی گئیں، وہ مبینہ طور پر ملزمہ کے ڈرائیور اور دوستوں کے نام پر تھیں، جن کا ملزمہ کے اپنے مالیاتی ریکارڈ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

ایف آئی اے حکام کا دو ٹوک موقف ہے کہ کسی بھی ٹھوس رسید یا دستاویزی ثبوت کی عدم موجودگی کے باعث ملزمہ کی جانب سے دی گئی وضاحتیں قانونی طور پر تسلیم نہیں کی جا سکتیں۔ ٹیکس گوشواروں میں ان بھاری رقوم کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے ملزمہ کا موقف قانوناً ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملزمہ کے ظاہر کردہ پیشے یا ذاتی آمدنی سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ کارروائی صرف غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجی گئی رقوم اور منی لانڈرنگ کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے جس میں مزید اہم گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert