اسلام آباد صرف امیروں کے لیے ہے، کچی آبادیوں کو گرانے پر ایچ آر سی پی اور سول سوسائٹی سی ڈی اے پر پھٹ پڑے


سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود سی ڈی اے کی ہٹ دھرمی، صدیوں پرانا ‘سیدپور گاؤں’ مسمار کیا جا رہا ہے: نسیم اظہر اور دیگر رہنماؤں کی پریس کانفرنس
اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور سول سوسائٹی نے وفاقی دارالحکومت میں کچی آبادیوں کے خلاف جاری آپریشن پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن نسیم اظہر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات سے یہی ثابت ہو رہا ہے کہ اسلام آباد صرف امیروں کے لیے بنا ہے۔ انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ 15 سال سے سی ڈی اے (CDA) سے اپیل کر رہے ہیں کہ غریبوں کو بے دخل نہ کیا جائے، لیکن اب تجاوزات کی آڑ میں صدیوں سے قائم ‘سیدپور گاؤں’ کو بھی بے دردی سے گرایا جا رہا ہے۔
رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کو مسلسل تجاوزات کا نام دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ سپریم کورٹ نے 2015 میں سیکٹر ای-11 (E-11) کی کچی آبادی گرانے کے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی اے کو واضح پالیسی بنانے کا حکم دیا تھا، تاہم سی ڈی اے نے آج تک عدالتِ عظمیٰ کے ان احکامات کو ہوا میں اڑا رکھا ہے۔ اس موقع پر سماجی رہنما عمار رشید کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام صوبوں میں کچی آبادیوں کے حقوق کے لیے باقاعدہ اتھارٹیز موجود ہیں، لیکن سی ڈی اے ملک کا وہ واحد ادارہ ہے جو غریبوں کی ان بستیوں کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کی رہنما فرزانہ باری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی حکومت نے اسلام آباد میں محنت کش طبقے اور کچی آبادی کے مکینوں کے لیے کوئی رہائشی منصوبہ بندی نہیں کی۔ پریس کانفرنس میں موجود معروف ماہرِ قانون شعیب سڈل نے زور دیا کہ اب اصل قانونی چارہ جوئی سی ڈی اے کے خلاف اس بات پر ہونی چاہیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جا رہا۔

WhatsApp
Get Alert