بغیر نوٹیفیکیشن پڑھے بیکری بند کروانا اے سی صاحبہ کو مہنگا پڑگیا


لاہور (قدرت روزنامہ)پنجاب بھر میں دکانیں رات 10 بجے بند کرنے کی پابندی دوبارہ نافذ ہونے کے بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اے سی صاحبہ میڈیا اور سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ ایک دکان سیل کرنے پہنچتی ہیں۔ تاہم، دکان کے ملازم نے فوری وضاحت کی کہ یہ دکان نہیں بلکہ بیکری ہے اور اس پر 10 بجے بند ہونے کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔


ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے اس پر مختلف ردعمل ظاہر کیے، کچھ نے دکان والے کے موقف کی حمایت کی تو بعض نے حکومتی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اے سی صاحبہ کی کارروائی پر تبصرہ کیا۔
خرم اقبال نے لکھا کہ اے سی صاحبہ کو ان کی ٹیم میں سے کسی نے بھی نہیں بتایا کہ بیکریاں 10 بجے بندش سے مستثنیٰ ہیں۔


اسد طور لکھتے ہیں کہ پاکستان کی سول سروسز اکیڈمی کو بند کرکے مقابلے کے امتحان کا نظام ختم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ سول سروس اکیڈمی نہ ہوئی ٹک ٹاکرز کی ڈیجیٹل اکیڈمی ہو گئی ایک سے ایک بڑھ کر سطحی ذہنیت کا ٹک ٹاکر ایس ایس پی یا اے سی بن کے گھوم رہا ہے۔


ایک صارف نے لکھا کہ اے سی صاحبہ کو خود قوانین کا علم نہیں اور چھاپہ مارنے پہنچی ہوئی ہیں۔


جاوید بدر نے طنزاً لکھا کہ ٹک ٹاک کے چکر میں بھول گئیں یا حکومتی نوٹیفیکیشن ہی نہیں پڑھا۔


واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے رمضان کے دوران دیے گئے خصوصی ریلیف کے بعد پرانا شیڈول بحال کرتے ہوئے مارکیٹس، شاپنگ مالز اور دکانوں کے لیے رات 10 بجے بند ہونے کی پابندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت تمام تجارتی مراکز مقررہ وقت کے مطابق بند ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert