چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا ہائیکورٹ توسیع اور بلیلی جوڈیشل کمپلیکس منصوبوں کا معائنہ ‘تعمیراتی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے تاکہ سائلین کو سہولیات میسر آسکیں: جسٹس کامران ملاخیل

بلیلی جوڈیشل کمپلیکس میں جوڈیشل اکیڈمی، بار کونسل اور جدید انفراسٹرکچر شامل ہوگا، سیکرٹری تعمیرات کی بریفنگ دستیاب جگہ کے مؤثر استعمال کے لیے ڈیزائن کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ہدایت، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوگا


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کے توسیعی منصوبے اور بلیلی میں زیرِ تعمیر جوڈیشل کمپلیکس و بار کونسل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر کویٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف آرکیٹیکٹ ڈاکٹر سہراب مری ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ کچلاک ڈویژن عمر منیر سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھیدورے کے دوران سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چیف جسٹس کو جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے منصوبوں سے متعلق تکنیکی امور ڈیزائن درپیش مسائل اور تکمیل کے مجوزہ ٹائم فریم پر تفصیلی بریفننگ دی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کا کہنا تھا کہ تمام منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور وہ خود ان کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اس موقع پر چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ہدایت دی کہ ان اہم نوعیت کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ عدالت عالیہ آنے والے سائلین کو مزید سہولیات میسر آسکیں انہوں نے بلیلی میں جاری جوڈیشل کمپلیکس اور بار کونسل منصوبوں کے ڈیزائن پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے ازسرِ نو چیک کیا جائے تاکہ دستیاب تمام جگہ کو مؤثر اور کارآمد انداز میں استعمال کیا جا سکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے بتایا کہ بلیلی منصوبہ ایک جامع نوعیت کا منصوبہ ہے جس میں جوڈیشل اکیڈمی بار کونسل اور دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر شامل ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو ایک ماسٹر پلان کے تحت مکمل کیا جائے گا جس میں جدید طرز کی سڑکیں گرین بیلٹس اور دیگر بنیادی سہولیات بھی شامل ہوں گی تاکہ اسے ایک مکمل اور جدید عدالتی کمپلیکس کی شکل دی جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert