ہنہ پولیس تھانہ مسلسل شہریوں کو ہراساں اور تذلیل کا نشانہ بنا رہا ہے، غیر قانونی ایف آئی آر واپس نہ لی گئی تو تھانے کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوں گے، پشتونخواملی عوامی پارٹی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ سے مربوط تحصیل صدر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنہ پولیس تھانہ کی جانب سے سرہ غوڑگئی گورکے مکینوں کو تنگ وہراساں کرنے کے ناروا اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہنہ پولیس تھانہ مسلسل شریف شہریوں کو بغیر کسی قانونی اجازت اپنے گھروں سے اٹھاکر تھانے لیجانے اور کیو ڈی اے کے نام پر انہیں ہراساں کررہی ہے۔ پولیس کی جانب سے رہائشیوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں پارٹی کے صوبائی لیبر سیکرٹری حبیب الرحمن بازئی نے پولیس تھانہ جاکر سائلین کی شکایات سے آگاہ کیا تو پولیس تھانہ انتظامیہ کی جانب سے شکایات کا ازالہ کرنے کی بجائے پارٹی رہنماء کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بالخصوص پولیس اہلکار ظریف کی جانب سے بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا گیا جس کی پارٹی مذمت کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ پولیس تھانوں کا بنیادی مقصد شہریوں کو انصاف فراہم کرنا اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے، نہ کہ ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا اور انہیں تذلیل کا نشانہ بنانا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مقامات پر پولیس افسران اور اہلکاروں کا رویہ نہایت غیر مہذب، توہین آمیز اور غیر پیشہ ورانہ ہوتا جا رہا ہے، جو نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔شہری جب کسی مسئلے یا ظلم کے خلاف تھانے کا رخ کرتے ہیں تو وہ انصاف اور تحفظ کی امید لے کر آتے ہیں، لیکن اگر انہیں بدتمیزی، دھمکی آمیز رویے اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو یہ عمل ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسا رویہ نہ صرف عوام کے اعتماد کو ختم کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بے چینی اور بداعتمادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سائلین کے شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے پولیس تھانہ ہنہ کے انتظامیہ اور بالخصوص مذکورہ بالا اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں عوام کو تنگ کرنے کے ناروا اقدامات سے روکاجائے اور ناروا غیر قانونی ایف آئی آر فوری طور پرواپس لیا جائے دیگر صورتحال میں پارٹی ہنہ تھانہ کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوگی۔
