وزیراعلیٰ کے احکامات کے باوجود خضدار کی چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری کا سلسلہ نہ رک سکا، ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ، ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی

خضدار (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے واضح احکامات کے باوجود خضدار اور گردونواح میں چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر بھتہ خوری کا سلسلہ نہ رک سکا، جس سے نہ صرف سرکاری رٹ پر سوال اٹھنے لگے ہیں بلکہ عوامی مشکلات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نال کے قریب گریشہ کے مقام پر قائم چیک پوسٹوں پر آج بھی فی گاڑی 7 ہزار روپے تک بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جو کھلم کھلا حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس غیر قانونی عمل نے ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ ایس ایس پی شہزادہ عمر عباس کی جانب سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، تاہم یہ اقدام ناکافی دکھائی دیتا ہے کیونکہ دیگر چیک پوسٹوں پر یہی عمل بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب ایرانی پیٹرول و ڈیزل کی سپلائی متاثر ہونے اور غیر قانونی وصولیوں کے باعث قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ چتربت، پنجگور اور دیگر سرحدی علاقوں میں 210 لیٹر ڈرم 31 سے 32 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو فی لیٹر تقریباً 147 سے 150 روپے بنتا ہے، جبکہ اضافی اخراجات کے بعد یہی قیمت 175 سے 180 روپے تک جا پہنچتی ہے۔ اس کے برعکس خضدار شہر میں مافیا کی جانب سے خود ساختہ نرخ مقرر کر کے پیٹرول اور ڈیزل 220 سے 240 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے، جو کھلی لوٹ مار کے مترادف ہے اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے ڈی آئی جی قلات رینج، ایس ایس پی خضدار، ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیک پوسٹوں پر جاری بھتہ خوری کا فی الفور خاتمہ کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت موجودہ ریٹ کے مطابق یقینی بنائی جائے۔
