ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ بندی میں پاکستان کا مصالحتی کردار قابلِ تحسین، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے خطے میں امن کی امید پیدا ہوئی، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال اور جنگ بندی میں پاکستان کی جانب سے مصالحتی کردار ادا کرنا نہایت خوش آئند اور قابلِ تحسین پیش رفت ہے۔ چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے خطے میں جنگ بندی اور پاکستان کی سرزمین پر ہونے والے مذاکرات اور مستقبل جنگ بندی کی کوششیں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی کرن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن، استحکام اور مکالمے کا داعی رہا ہے، اور موجودہ حالات میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کی عکاسی کرتا ہے جس کے لئے پاکستان نے نہایت مثبت رول کردار ادا کیا اور جنگ بندی پر دونوں فریقوں کو راضی کیا۔ پاکستان میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت ہی مسائل کا پائیدار حل ہے۔سینیٹرثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ انشاء اللہ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو مستقل جنگ بندی کا سہرا بھی پاکستان کے سر ہوگا جس سے نہ صرف پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوگا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی جو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مؤثر اور امن پسند ملک کے طور پر اجاگر کرے گی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل،چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیرکے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ان کی قائدانہ بصیرت، حکمت عملی اور سنجیدہ کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کیا ہے جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کو لگام دینے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے تنازعات کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو بھی فعال اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ملک کو جارحیت کا موقع نہ ملے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مسلم دنیا کے اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کا باہمی اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور دیگر مسلم ممالک کو اسرائیلی جارحیت سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی، تاکہ نہ صرف ان ممالک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے بلکہ خطے میں پائیدار امن بھی قائم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ جنگ کے خاتمے سے عالمی سطح پر امن و امان کی فضا مضبوط ہوگی اور بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات کم ہوں گے۔چیئرپرسن سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی ان امن کاوشوں کی بھرپور حمایت کرے اور فریقین کو مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے تاکہ ایک پرامن، مستحکم اور محفوظ دنیا کی بنیاد رکھی جا سکے۔
