بلوچستان حکومت کی نئی اشتہاری پالیسی پر اے پی این ایس کا اظہارِ تشویش
پرنٹ میڈیا کے بجٹ میں کٹوتی اخبارات کے معاشی قتل کے مترادف قرار؛ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے فیصلے پر نظرثانی اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی اپیل

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر سینیٹر سرمد علی اور سیکرٹری جنرل اطہر قاضی نے بلوچستان حکومت کی جانب سے مجوزہ نئی ڈیجیٹل پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پرنٹ میڈیا کا “معاشی قتل” قرار دیا ہے، جس کے تحت اخبارات کے اشتہاراتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا کے لیے مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اے پی این ایس کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ بلوچستان کے اخبارات، جو پہلے ہی علاقائی جنگ اور ملکی معاشی ابتری کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہیں، اپنی بقا کے لیے حکومتی اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں اور اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف اشاعتیں بند ہوں گی بلکہ ہزاروں صحافی اور اخباری کارکن بے روزگاری کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔
عہدیداران نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسی پالیسی مرتب کریں جو مصدقہ معلومات کے واحد ذریعے یعنی اخبارات کی بقا کو یقینی بنائے، کیونکہ سوشل میڈیا کے دور میں بھی عوام مستند خبروں کے لیے آج بھی پرنٹ میڈیا پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
