بلوچستان کی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر غور، میڈیا ایکشن کمیٹی کا وزیراعلیٰ اور پارلیمانی جماعتوں سے ملاقات کا فیصلہ

ڈیجیٹل میڈیا کی واضح تعریف کی جائے، ٹک ٹاکرز کے بجائے باقاعدہ صحافتی اداروں کو پالیسی میں شامل کرنے کا مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان حکومت کی جانب سے مجوزہ صوبائی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر غور اور اس کے مضمرات پر بحث کیلئے بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کا اجلا س کوئٹہ پریس کلب میں کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ ذوالفقار کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید جنرل سیکرٹری ایوب ترین ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین ، بلوچستان ایڈیٹر ز کونسل کے صدر انور ساجدی،جنرل سیکرٹری نادرحسین زمرد ،جرائد کونسل کے صدر عبدالغفار لانگو ، اخبار فروش یونین کے صدر حاجی غازی خان اور جنرل سیکرٹری میر احمد نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بلوچستان حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی مجوزہ بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے مختلف پہلوؤں اور اس کے نتیجے میں اخباری صنعت اور اس سے وابسطہ افراد پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیااجلاس میں طے پایا کہ صوبائی حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل پالیسی پر بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کو اعتماد میں لینے کیلئے جو لائحہ عمل گزشتہ اجلاس میں ترتیب دیا گیا تھا اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جلد متعلقہ حکام سمیت وزیر اعلیٰ اور صوبائی پارلیمانی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا اور اپنے مطالبات ایک چارٹرآف ڈیمانڈ کی صورت میں پیش کئے جائیں گے ۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں ڈیجیٹل میڈیا کی تعریف انتہائی ضروری ہے جن اخبارات کے ویب سائٹس اور آن لائن ایڈیشنز موجود ہیں انہیں ڈیجیٹل میڈیا میں شامل کیا جائے جبکہ ایسے ویب سائٹس ، ویب پیج اور آن لائن ایڈیشن کو ڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں شامل کیا جائے جو باقاعدہ صحافتی اصولوں ، قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ صحافت کے لوازمات پر پورا اترتے ہو او ر میڈیا ادارے کل وقتی سٹاف بھی رکھتے ہوں جبکہ ٹک ٹاکرز یا غیر سنجیدہ مواد پر مبنی سوشل میڈیا گروپ و شخصیات کوڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں شامل کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کسی بھی پیشہ ورانہ صحافتی قوانین کے نہ تو پابند ہوتے ہیں اور نہ ہی ان پلیٹ فارمز پر چیک اینڈ بیلنس کو ملحوض خاطر رکھا جاتا ہے اجلاس میں کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اخباری صنعت سے وابسطہ ملازمین ، رپورٹر ، فوٹو گرافر ز اور ایڈیٹنگ سٹاف کی ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا اپنا دیریہ مطالبہ دہریا گیا اجلاس میں شرکاء کی جانب سے تمام نکات پر مکمل اتفاق کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی جلد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرے گی ۔ اجلاس میں ایک مکمل اخبار کیلئے درکار ضروری لوازمات پر نکات پر مکمل اتفاق کیا گیا جن نکات کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی ان میں اخبار اور ان کے ڈیجیٹل میڈیا کے کیلئے نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹرز ،باقاعدہ اور کل وقتی رپورٹرز ، فوٹو گرافر ،ایک دفتر ،کم ازکم 2 نیوز ایجنسیوں کی سروسز ، مکمل انٹرنیٹ سسٹم ،پریس اور پرنٹنگ پریس ،ایڈیٹرز ، رپورٹرز ، فوٹو گرافرز اور دیگر سٹاف کو باقائدہ تقررناموں کا اجراء اور انہیں ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی ،اخبار کی ،اندرون بلوچستان ترسیل ،اخبار کی باقاعدہ ویب سائٹس ، ای میل اور آن لائن سروس ہو انہیں اخبارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ایک مکمل میڈیا ہاؤس تصور کیا جائے گا ۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اخبارات کیلئے اشہاری بجٹ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلے بھر پور جدوجہد کی جائے گی ۔

WhatsApp
Get Alert