اسلام آباد مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد کشیدگی میں نیا موڑ: ایران کا سعودی عرب اور یو اے ای سمیت 5 خلیجی ممالک پر حملوں میں معاونت کا الزام؛ 270 ارب ڈالر جنگی ہرجانے کا باضابطہ مطالبہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے کی صورتحال نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران نے خطے کے 5 ممالک—سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اردن—پر حالیہ تنازع کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی عسکری معاونت کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان سے باضابطہ طور پر بھاری جنگی ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلط کی گئی اس جنگ میں جس علاقائی ملک نے بھی کردار ادا کیا ہے، اسے ہر صورت اس کا معاوضہ دینا ہوگا۔ دوسری جانب، منگل کے روز ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 270 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد مذاکرات میں بھی ایرانی مذاکراتی ٹیم نے جنگی ہرجانے کا یہ معاملہ سختی سے اٹھایا تھا، تاہم 270 ارب ڈالر کا یہ تخمینہ ابھی حتمی نہیں ہے اور نقصانات کا مکمل جائزہ کئی مراحل میں جاری ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے انتہائی حساس معاملات پر اختلافات دور نہ ہونے کے باعث کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ عالمی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگی ہرجانے کے اس غیر معمولی مطالبے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر جنم لے گی بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی طویل المدتی عدم استحکام پیدا ہونے کے شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert