بلوچستان اسمبلی ‘ مولانا ہدایت الرحمن کا اسپیکر پر دھمکیوں کا الزام، عدم اعتماد اور صوبہ گیر احتجاج کا اعلان


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) حق دو تحریک کے رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا ہے کہ اسپیکر نے انہیں اپنے چیمبر میں معطل کرنے کی دھمکی دی ہے ، اسپیکر اسمبلی کو کپتان کے طور پر چلا رہے ہیں ، ان کے روئیے کے خلاف پورے بلوچستان میں احتجاج کریں گے،اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنی چاہیے ۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اسمبلی کے اجلاس میں شراب خانوں ، درستی کتب کی عدم فراہمی پر دی جانے والی رپورٹس پر بات کرنے کی کوشش کی جس پر اسپیکر نے بات کرنے نہیں دی اسپیکر کی جب مرضی ہو وہ مجھے بات کرنے دیتے ہیں جب انکی مرضی نہ ہوتو بات نہیں کرنے دیتے جب ان کی اپنی جماعت کے ارکان نے بات کرنی ہو تو اس وقت کوئی قانون اور ایجنڈانہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ آج جب صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو کے ہمراہ اسپیکر چیمبر گیا تو انہوں نے مجھے ایک بار پھر دھمکی دی کہ وہ مجھے ایک دن کے بعد ،تین دن اور ایک ماہ تک معطل کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر اسپیکر بنیں کیپٹن نہ بنیں میرے اوپر 18ایف آئی آر ہیں، تشدد ، قید و بند کی صعبتیں برداشت کرکے رکن اسمبلی منتخب ہوا ہوں آج اپوزیشن لیڈر نے بھی وزیراعلیٰ سے اسپیکر کے روئیے پر بات کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں روکنے کی کوشش عوام کی آوازدبانے کی کوشش ہے ہم دھکمیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں وہ ایک نہیں 100بار مجھے معطل کریں اس کی پرواہ نہیں ہے میں ایک جماعت کا صوبائی امیر ہوں ہم پورے بلوچستان میں احتجاج کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آنی چاہیے لیکن مجھے معلوم ہے سیاسی جماعتیں یہ نہیں کرینگی ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے باہر اور اسمبلی کے اندر ہمارے لیے رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ۔

WhatsApp
Get Alert