بلوچستان میں دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، شوہر نے ہی خاتون کو خودکش حملے کے لیے تیار کیا، حمزہ شفقات


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا اور معاون خصوصی برائے محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی اور دراندازی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں جس کے شواہد موجود ہیں ، شدت پسند خواتین و بچوں کو ڈھال بنا رہے ہیںدہشت گرد کارروائیاں کر کے دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں، معاشرہ مشکوک عناصر پر نظر رکھے خواتین کا بطور ہتھیار استعمال بلوچ روایات کے منافی، والدین شادیوں سے قبل خاندانوں کی جانچ پڑتال کریں ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کو یہاں کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور سرحد پار دراندازی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور پھر دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں۔

معاون خصوصی بابر یوسفزئی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند نیٹ ورکس اپنے مذموم مقاصد کے لیے اب خواتین اور معصوم بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جو کہ نہ صرف انسانیت سوز ہے بلکہ بلوچ روایات کے بھی سراسر منافی ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک خاتون خودکش حملہ آور کو اس کا شوہر ہی افغانستان لے کر گیا تھا، جہاں اسے دہشت گردی کے لیے تیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف عناصر اپنے مقاصد کی خاطر مقدس انسانی رشتوں کا استحصال کر رہے ہیں۔حکام نے معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے اردگرد موجود مشکوک عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور شادیوں جیسے اہم سماجی رشتوں سے پہلے خاندانی پس منظر اور تعلقات کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شدت پسندوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور ملک و معاشرے کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ پریس کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر صورت خاک میں ملایا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert