سرکاری اداروں کی جانب سے تقریباً ایک ہزار ارب روپے خلاف قواعدکمرشل بینکوں میں رکھنےکا انکشاف

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سرکاری اداروں کی جانب سے تقریباً ایک ہزار ارب روپے خلاف قواعد کمرشل بینکوں میں رکھنے اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے افسران پر کروڑوں روپےکی نوازشات کا انکشاف ہوا ہے۔
جنگ اور دی نیوز میں شائع مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں نے 1000 ارب روپے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کرنے کے بجائے کمرشل بینکوں میں رکھے ہوئے ہیں، جو کہ مبینہ طور پر پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے۔
اس کے علاوہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے وزارت خزانہ کی منظوری لیے بغیر اُس وقت کے چیئرمین، کمشنرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور دیگر افسران کو تنخواہوں، مراعات اور اضافی فوائد کی مد میں ایک ارب 19 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے۔
رپورٹ کے مطابق یہ عمل پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے ، یہ تمام مراعات گزشتہ 16 ماہ یعنی یکم جولائی2023 سے31 اکتوبر 2024 کے دوران ایس ای سی پی بورڈ کی منظوری سے دی گئیں۔
ایس ای سی پی کے ترجمان کے مطابق ایس ای سی پی پالیسی بورڈ یہ منظوری دے سکتا ہے ۔
