حجر ا سو د کو د نیا کی مہنگی تر ین خو شبو لگا تے ہو ئے خو ش قسمت ہا تھ ، ر و حا نی منظر کی و یڈ یو و ا ئر ل

حجرِ اسود کو عنبر، مشک اور عود جیسی اعلیٰ معیار کی خوشبوؤں سے معطر کرنا شعائرِ اللہ کی تعظیم کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
طواف شروع کرتے وقت اور ہر چکر کے اختتام پر حجرِ اسود کا سامنا کر کے اس پر دونوں ہاتھ اور ان کے درمیان اپنا منہ رکھ کر آہستہ سے بوسہ دینا سنت ہے۔
حضرت عمرؓ کی روایت: آپؓ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا “میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا”۔
روزانہ کا معمول: انتظامیہ کی جانب سے حجرِ اسود، ملتزم اور رکنِ یمانی کو روزانہ کی بنیاد پر معطر کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس کام کے لیے روزانہ تقریباً 20 تولہ عود استعمال ہوتا ہے۔
انتظامی ذمہ داری: مسجد الحرام میں خوشبو اور صفائی کے لیے ایک مخصوص یونٹ کام کرتا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے یہ فریضہ انجام دیتا ہے۔
