جنگ بندی میں توسیع: ٹرمپ کے لیے اپنے دوست فیلڈ مارشل عاصم منیر کو انکار کرنا آسان نہیں تھا، سابق امریکی جنرل


واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکا کے ریٹائرڈ فوجی جنرل اور سابق اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ جنرل مارک کِمٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور جنگ بندی میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی درخواست کو اہمیت دی۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کِمٹ نے کہا کہ دونوں فریق مذاکرات چاہتے ہیں اور دونوں کو اس کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی قیادت نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھرپور کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان تعلقات ایسے ہیں کہ جب پاکستان نے اس معاملے پر زور دیا تو ٹرمپ کے لیے اپنے دوست کو انکار کرنا آسان نہیں تھا۔
امریکی جنرل کے مطابق ٹرمپ ایران سے ایک متحدہ اور واضح تجویز چاہتے ہیں تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں دونوں ممالک کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کا امکان موجود ہے کیونکہ کوئی بھی فریق دوبارہ جنگ نہیں چاہتا۔
جنرل کِمٹ نے کہا کہ ایران کی داخلی قیادت پیچیدہ ہے اور وہاں فیصلہ سازی کے کئی مراکز موجود ہیں، اس لیے بعض اوقات یہ واضح نہیں ہوتا کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی وقتی طور پر برقرار رہ سکتی ہے، مگر اصل مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات ضروری ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert