جنوبی کوریا میں آخری پرواز کو یادگار بنانا پائلٹس کو مہنگا پڑ گیا،جنگی طیارے آپس میں ٹکرا گئے

سیئول(قدرت روزنامہ)جنوبی کوریا کے حکام کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2021 میں دو لڑاکا طیاروں کے درمیان فضا میں ہونے والے تصادم کی وجہ پرواز کے دوران تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی کوشش تھی۔
سیئول کے بورڈ آف آڈٹ اینڈ انسپیکشن کے مطابق یہ واقعہ شہر ڈیگو میں ایک فضائی مشن کے دوران پیش آیا، جب پائلٹس تربیتی پرواز پر تھے۔
حادثے میں دونوں پائلٹس محفوظ رہے تاہم تصادم کے نتیجے میں طیاروں کو نقصان پہنچا، جس کی مرمت پر تقریباً 880 ملین وون (تقریباً 596,000 امریکی ڈالر) خرچ آیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک پائلٹ، جو بعد میں فوج سے الگ ہو چکا ہے، پر 88 ملین وون جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پائلٹ اپنی آخری پرواز کی یادگار تصاویر بنانا چاہتا تھا۔
آڈٹ بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت فضائیہ میں اہم پروازوں کی تصاویر لینا ایک عام رجحان بن چکا تھا، اور متعلقہ پائلٹ نے پرواز سے قبل بریفنگ کے دوران بھی تصاویر لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
پرواز کے دوران ایک پائلٹ نے اپنے ذاتی موبائل فون سے تصاویر لینا شروع کیں، جس کے بعد دوسرے طیارے کے پائلٹ نے بھی ویڈیو بنانے کی ہدایت دی۔ اسی دوران ایک طیارہ اچانک غیر متوقع انداز میں اوپر کی جانب مڑ گیا، جس کے باعث دونوں طیارے خطرناک حد تک قریب آ گئے، بعد ازاں بچاؤ کی کوشش کے دوران دونوں طیاروں کے درمیان تصادم ہو گیا۔
جنوبی کوریا کی فضائیہ نے واقعے کے بعد ایک پائلٹ کو معطل کیا تھا، جبکہ وہ بعد میں فوج سے ریٹائر ہو کر ایک تجارتی ایئرلائن میں شامل ہو گیا۔
آڈٹ بورڈ نے قرار دیا کہ فضائیہ کی جانب سے ذاتی کیمروں کے استعمال پر مناسب کنٹرول نہ ہونا بھی ایک وجہ تھا۔
پائلٹ نے طیارے کو محفوظ طریقے سے واپس اڈے پر پہنچا کر مزید نقصان سے بچایا۔ رپورٹ میں دیگر ملوث پائلٹس کے خلاف کسی کارروائی کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
