بلوچستان حکومت نے مدارس کے معاملے پر ہماری ریڈ لائن پر ہاتھ ڈالا ہے، وزیر اعلیٰ 2 مئی تک معافی مانگیں ورنہ فیصلے سڑکوں پر ہوں گے ‘ مولانا واسع

جے یو آئی کا صوبائی حکومت کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان، تمام سرکاری پروگراموں اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے دوروں کا مکمل بائیکاٹ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صوبائی حکومت کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے تمام سرکاری پروگراموں، وزیر اعلی ہاوس کے دوروں اور حکومتی ملاقاتوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
سینیٹر کامران مرتضی اور دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی کا کوئی بھی رکن اب وزیر اعلی ہاوس نہیں جائے گا اور نہ ہی کسی سرکاری تقریب میں شرکت کرے گا۔ مولانا عبدالواسع نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر بلاجواز تنازعہ کھڑا کر کے ہماری “ریڈ لائن” پر ہاتھ ڈالا ہے، جس کے بعد اب صورتحال کھلی محاذ آرائی اور کھلی جنگ کی طرف جا رہی ہے۔مولانا عبدالواسع نے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سرفراز بگٹی خود کو بہادر کہتے ہیں تو سن لیں ہم بھی تیار ہیں۔

اگر انہوں نے 2 مئی تک معافی نہ مانگی تو آئندہ فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بغیر قانون پاس کیے مدارس کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور مذہبی اداروں کو دبا میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔ اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے کسی بھی قانون سازی کو آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، بصورتِ دیگر اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔جے یو آئی قیادت نے اعلان کیا کہ 2 تاریخ کو ہونے والے پارٹی اجلاس میں مدارس ایکٹ اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف باقاعدہ تحریک چلانے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جس کے بعد احتجاجی سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جے یو آئی اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی آئندہ دنوں میں بلوچستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ مدارس رجسٹریشن اور معدنیات سے متعلق قوانین ایک بڑا سیاسی تنازعہ بنتے جا رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert