بلوچستان : کیسکو کی مجرمانہ غفلت، شہروں میں 11 اور دیہاتوں میں 18 گھنٹے کی مسلسل لوڈشیڈنگ نے شدید گرمی میں عوام کا جینا محال کر دیا
کم وولٹیج اور بجلی کی آنکھ مچولی سے عوام کی لاکھوں روپے کی مشینری جل کر خاکستر، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا، لوڈشیڈنگ کم کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت)صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہیں بجلی نے انکھ مچولی کا سلسہ شروع کر ددیا گیا جس کے باعث شدید گرمی میں عوام کو مشکلات درپیش رہی کوئٹہ شہر میں بجلی کی کم وولٹیج کے ساتھ ساتھ بجلی کی انکھ مچولی سے عوام کی لاکھوں روپے کی مشینری آئے روز جلتی آرہی ہے ‘واضح رہے کہ حسب روایات کے مطابق گرمی شروع ہوتے ہی کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں واپڈا حکام کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے ہے عوام سے مہینے کی 28 تاریخ پر بجلی کی بلوں کی وصولی کی جارہی ہے جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں دگنا اضافہ کر دیا گیا ہے کوئٹہ شہر میں 10 سے 11 گھنٹے جبکہ دیہاتوں میں 18 گھنٹے مسلسل لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینامحال کر دیا ہے شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ ، جیکب آباد کے شہری دوہرے عذاب میں مبتلاایشیا کے گرم ترین علاقوں میں شمار ہونے والے بلوچستان کے کائی اضلاع میں شدید گرمی کی لہر نے معمولات زندگی کو مفلوج کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جمعہ کے روز درجہ حرارت 44سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دوپہر کے اوقات میں سورج کی تپش نے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل بنا دیا ہے ایسے میں بجلی کی بار بار بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں جتنا اضافہ ہو رہا ہے اسی تناسب سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف روزمرہ امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو شدید اذیت کا سامنا ہے، خصوصاً سرکاری و نجی اسپتالوں میں بجلی کی بندش کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں، شہریوں کے مطابق گرمی کے ستائے ہوئے مریض، خصوصاً ہیٹ اسٹروک اور دیگر امراض میں مبتلا افراد، مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث مزید تکلیف میں مبتلا ہو رہے ہیں، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میںشدید گرم علاقے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرکے عوام کو سکون فراہم کیا جائے ۔
