ایران امریکا مذاکرات کی راہ مزید ہموار، ٹرمپ کا اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

واشنگتن (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں شرکت کریں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں متوقع ہیں جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی شرکت بھی متوقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس بار مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی اس وفد کا حصہ نہیں ہیں جنہیں وائٹ ہاؤس میں ایران مذاکراتی ٹیم کا اہم رکن سمجھا جاتا ہے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق اگر مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو نائب صدر کو فوری طور پر اسلام آباد بلانے کے لیے تیار رکھا گیا ہے، جبکہ ان کا اسٹاف پہلے ہی پاکستان میں موجود ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے حکام کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت میں شامل رہے ہیں جس کا مقصد تہران کے جوہری مواد سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر اہم مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، اور پاکستان اس عمل میں سفارتی میزبان کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
دریں اثنا رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ وہ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔
ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رائٹرز کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال اس دورے میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم اگر مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو انہیں فوری طور پر اسلام آباد جانے کے لیے تیار رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی ٹیم کے ساتھ اہم بات چیت کے بعد امریکا اور ایران کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے امکانات ایک بار پھر روشن ہوگئے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے جبکہ امریکی لاجسٹکس اور سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی دارالخلافے میں موجود ہے۔
