باب المندب میں بحری قزاقوں کا جہاز پر حملہ


صنعاء (قدرت روزنامہ)عالمی تجارت کی اہم آبی گرگاہ باب المندب میں بحری قزاقوں نے جہاز پر حملہ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میرین انفارمیشن سینٹر کو واقعہ رپورٹ ہوچکا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے جہاز کو قبضے میں لے کر اس کے عملے کو یرغمال بنالیا، جہاز پر پاکستانی اور سری لنکن عملہ موجود تھا، جہاز پر موجود عملے میں 11 پاکستانیوں سمیت مجموعی طور پر 2 درجن سے زائد افراد موجود ہیں۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے حوثی گروپ بھی باب المندب بندکرنے کی دھمکی دے چکا ہے ، جس سے عالمی تیل منڈی میں نئی ہلچل دیکھی گئی کیوں کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے ، جس کی وجہ سے تیل کی عالمی سپلائی پر شدید دباؤ ہے اور تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوچکا ہے، اس صورتحال میں یمن میں فعال حوثی تحریک نے اہم بحری راستے باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دے کر عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بے چینی پیدا کردی۔
بتایا جارہا ہے کہ باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی اور اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے، بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے، 115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی آبنائے باب المندب 1869ء میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی، جس نے یورپ اور ایشیاء کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا، بحیرہ احمر میں موجود آبنائے باب المندب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert