پاکستانی شوبز کے وہ 10 اداکار جنہوں نے ایک یادگار کردار سے اپنے کیریئر کی سمت بدل دی

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری اپنے فطری ٹیلنٹ اور جاندار کہانیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ اکثر فنکاروں کے کیریئر میں ایک ایسا موڑ آتا ہے جہاں ایک منفرد کردار ان کی شناخت ہمیشہ کے لیے بدل دیتا ہے۔ حالیہ رپورٹ میں ایسے دس بڑے ناموں کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے ایک خاص کردار کے ذریعے اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

احسن خان اور وہاج علی کی بے مثال کامیابی

احسن خان طویل عرصے سے انڈسٹری کا حصہ ہیں لیکن ایک وقت ایسا آیا جب ان کے کردار یکسانیت کا شکار ہو گئے۔ ایسے میں انہوں نے ڈرامہ ‘اڈاری’ میں ‘امتیاز’ نامی منفی کردار نبھانے کا بڑا خطرہ مول لیا، جس نے نہ صرف انہیں بہترین اداکار ثابت کیا بلکہ معاشرے میں بچوں کے استحصال جیسے اہم موضوع پر بحث کا آغاز بھی کیا۔

اسی طرح وہاج علی، جو ایک عرصے سے اپنی پہچان بنانے کی جدوجہد کر رہے تھے، ‘تیرے بن’ میں ‘مرتسم خان’ کے کردار سے راتوں رات عالمی سطح پر سپر اسٹار بن کر ابھرے۔

یمنیٰ زیدی اور دانش تیمور کا عروج

یمنیٰ زیدی اپنی ورسٹائل اداکاری کے لیے جانی جاتی تھیں لیکن ‘تیرے بن’ میں ‘میرب’ کے کردار نے انہیں کمرشل طور پر انڈسٹری کی مہنگی ترین اور مقبول ترین اداکارہ بنا دیا۔

دوسری جانب دانش تیمور نے ‘اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے’ میں ‘جان عالم’ کا کردار ادا کر کے اپنے کیریئر کا رخ بدلا، جس کے بعد انہوں نے ‘کیسی تیری خود غرضی’ جیسے بلاک بسٹر ڈراموں سے اپنی دھاک بٹھائی۔

احمد علی اکبر اور عائزہ خان کے جرات مندانہ فیصلے

احمد علی اکبر نے ‘پریزاد’ کا ایسا کردار قبول کیا جسے کئی بڑے اداکاروں نے مسترد کر دیا تھا، لیکن اس ایک کردار نے انہیں عالمی شہرت دلا دی۔

عائزہ خان نے بھی ہمیشہ مثبت کردار ادا کرنے کے بعد ‘میرے پاس تم ہو’ میں ‘مہوش’ کا منفی کردار اپنا کر سب کو حیران کر دیا، جس نے ان کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے۔

ماورہ حسین، سید جبران اور عماد عرفانی کا نیا روپ

ماورہ حسین نے روایتی رونے دھونے والے کرداروں کے بجائے ‘سمی’ جیسے سماجی موضوعات پر مبنی ڈراموں کا انتخاب کر کے خود کو ایک ذہین اداکارہ ثابت کیا۔

سید جبران کے لیے ڈرامہ ‘چپ رہو’ ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جبکہ عماد عرفانی نے حال ہی میں ‘کفیل’ میں ایک درمیانے طبقے کے خود غرض انسان کا کردار نبھا کر ثابت کیا کہ وہ صرف اپنی اچھی شکل و صورت ہی نہیں بلکہ جاندار اداکاری کے لیے بھی پہچانے جاتے ہیں۔

سحر خان کا ارتقا

نئی نسل کی اداکارہ سحر خان، جو اپنی چنچل اداکاری کے لیے مشہور تھیں، انہوں نے ‘تا من نیلو نیل’ میں ‘رابی’ کا سنجیدہ کردار ادا کر کے ناقدین کو متاثر کیا اور ثابت کیا کہ وہ مشکل اور سنجیدہ کردار بھی مہارت سے نبھا سکتی ہیں۔

ان تمام اداکاروں کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ایک درست وقت پر لیا گیا جرات مندانہ فیصلہ کسی بھی فنکار کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

 

WhatsApp
Get Alert