بلوچستان حکومت کی اپنی رٹ ختم ہو چکی، مدارس کے خلاف کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو کھلی جنگ ہوگی، نرمی کی پالیسی ختم ‘ وزیر اعلیٰ بلوچستان، جے یو آئی اور وفاق المدارس سے فوری معافی مانگیں، مولانا عبدالواسع
ماضی کے حکمرانوں کی غلطیاں دہرانے سے حالات مزید خراب ہوں گے، مولانا عبدالواسع کا ورکرز کنونشن سے خطاب

کوئٹہ/نوشکی (ڈیلی قدرت)جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینٹرمولانا عبدالواسع نے کہا ہے ک بلوچستان میں مدارس کو ایسے وقت میں نشانہ بنایا جا رہا ہے جب حکومت کی اپنی رٹ کمزور ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں اصل اختیار کس کے پاس ہے اور کن حالات میں حکمرانی کی جا رہی ہے۔نوشکی میں منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو فیصلے کیے گئے ان کے نتائج آج بھی سامنے ہیں، مگر اس کے باوجود حکمرانوں نے سبق نہیں سیکھا۔انہوں نے پرویز مشرف کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی جمعیت علمائے اسلام کا موقف واضح تھا کہ جن مقامات کو فراری کیمپ قرار دیا جا رہا تھا وہ درحقیقت عام لوگوں کے گھر تھے۔ ان کے بقول آج بھی اسی طرز کی پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں، جو حالات کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مدارس کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو جمعیت سخت ردعمل دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کو سیل کرنے کے بعد حکومت کے ساتھ “کھلی جنگ” کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور اب اسمبلی سمیت کسی بھی فورم پر نرمی یا اعتدال کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی بلوچستان، جمعیت علمائے اسلام، وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز مدارس کے منتظمین سے معذرت کریں اور مدارس کے خلاف پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دیگر رہنماں نے بھی مدارس کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی اور اسے دینی تعلیمی نظام پر دبا ڈالنے کے مترادف قرارا۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔کنونشن کے اختتام پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں مدارس کے خلاف اقدامات کو فوری طور پر ختم کرنے اور علما کرام کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
